اسلام آباد ( خبر نگار خصوصی؍ نیوز ایجنسیاں) وزیر اعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات کی۔وزیر اعظم ہاؤس کے مطابق وزیر اعظم اور آرمی چیف کے درمیان ہونے والی ملاقات میں پاک فوج کے پیشہ ورانہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں ملک کی داخلی، سلامتی اور سکیورٹی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ ملاقات میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات بھی زیرغور آئے ۔وزیر اعظم عمران خان نے فوج، ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراج تحسین پیش کیا جبکہ وزیر اعظم نے اپنی جانیں قربان کرنے والے سکیورٹی اہلکاروں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔92 نیوز کے مطابق عمران خان نے پاکستان میں تشدد کے حالیہ واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے عزم کا اظہار کیا کہ پوری قوم دشمن کی بزدلانہ کارروائیوں کے خلاف متحد ہے ۔وزیراعظم کے زیرصدارت قومی رابطہ کمیٹی برائے ہائوسنگ و تعمیرات کا اجلاس ہوا جس سے خطاب میں وزیراعظم نے سرمایہ کاروں کے لئے انتظامی امور کو آسان بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ تعمیرات کے شعبے سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور کورونا وبا کی وجہ سے معاشی نقصان کے ازالے میں مدد ملے گی۔عمران خان نے جنوبی بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کے ترقیاتی منصوبوں پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہماری حکومت نے بلوچستان کی ترقی کواولین ترجیح دی،یہ خطہ ملک کے باقی علاقوں کی طرح ترقی کرے گا،گوادربندرگاہ خاص اہمیت کی حامل ہے ،گوادرملکی ترقی کے لئے اہم سنگ میل ثابت ہوگا،جلدجنوبی بلوچستان کادورہ کروں گااورجامع ترقیاتی پیکیج کااعلان کروں گا۔وزیراعظم نے ملاقات کرنے والے افغان وزیرصنعت وتجارت نثارفیض غوریانی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کے لئے مدددیتارہے گا،افغانستان میں امن سے خطے میں معاشی تعاون کے نئے مواقع پیداہوں گے ،افغانستان میں امن علاقائی روابط کو فروغ دے گا۔وزیراعظم نے ترکی کے یوم جمہوریہ پر ترک قیادت اور عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے آبائواجداد نے ترک عوام کی جدوجہد میں ان کا بھرپورساتھ دیا تھا،آج کے دور میں ہمارے دونوں ملک ایک دوسرے کے لازمی شراکت دار بن چکے ہیں۔علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے حضور نبی کریمﷺ کے بارے فرانسیسی مصنف ، شاعر اور سیاستدان الفونسے ڈی لمرٹائن کے خیالات کو پسندیدہ ترین قرار دیتے ہوئے ٹویٹر پر شیئر کیا ہے ۔ وزیراعظم نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ فرانسیسی دانشور نے حضور نبی کریمﷺ کے حوالے سے جو کہا ،وہ ان کی پسندیدہ ترین تحریر ہے ، فرانسیسی مصنف نے حضور اکرم ﷺ کی عظیم جدو جہد کو خراج عقیدت کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ ﷺ کی عظیم ترین شخصیت کا کسی اور سے موازنہ ہی نہیں کیا جاسکتا، دنیا میں کئی بڑی شخصیات گزری ہیں جنہوں نے بڑی بڑی فوجیں تیار کیں، قوانین بنائے اور سلطنتیں قائم کیں لیکن انہوں نے مادی طاقت پر توجہ دی جو اکثر و بیشتر ان کی آنکھوں کے سامنے ہی نیست ونابود ہوگئی جبکہ حضور نبی کریمﷺ نے نہ صرف لشکر تیار کئے اورقوانین بنائے ، ریاست قائم کی اور افراد کار تیار کئے بلکہ آپﷺ اپنے وقت کی آباد دنیا کی ایک تہائی آبادی پر مشتمل لاکھوں انسانوں کی زندگیوں میں اس طرح تبدیلی لائے کہ ان کا مقصد حیات اورمطمع نظر ہی بدل گیا، ان کے معبود، ان کی عبادت گاہیں،ان کے عقائد اور افکارسب تبدیل ہوگئے ۔