جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کیوں پڑھی جاتی ہے؟گزشتہ دو روز کے دوران میں نے ایک سوال سب سے پوچھا مگر حیران کن طور پر کسی سے جواب حاصل نہیںکرسکا۔ آج وہی سوال آپ سے پوچھتا ہوں۔سجادہ نشین دربار غوث اعظم بغداد‘ الشیخ سید خالد عبدالقادرمنصورالدین الجیلانی نے بری امام ہاؤس میں سجی روح پرور محفل سے خطاب کے دوران جیسے ہی سوال کیاتو عقیدت مندوں پر سناٹاطاری ہو گیا۔ دوصاحبان نے جواب دینے کی سعی کی مگر شیخ صاحب کو مطمئن نہ کر سکے۔الشیخ سید خالد عبدالقادرمنصورالدین الجیلانی نے حاضرین کی توجہ اور یکسوئی حاصل کرنے کے بعد کہا’ نمازجنازہ واحدایسی نماز ہے جس سے قبل اذان دی جاتی ہے نہ ہی اقامت پڑھی جاتی ہے۔انسان کی دنیا میں آمد کیساتھ ہی اس نماز کی تیاری ایک بڑا پیغام ہے کہ دنیا میں قیام مختصر ہے‘انسانوں کی بہتری اور فلاح کیلئے کردار ادا کریں نہ جانے کب زندگی کی شمع بجھ جائے‘ ۔ یہ ایسی کھلی حقیقت ہے کہ جس سے بے خبر لوگ سرپٹ دوڑے چلے جارہے ہیں۔بہت سے لوگ دن رات بہتری اور فلاح کیلئے کوشاں ہیں مگر عام آدمی کی زندگی مسائل کے گرداب میں الجھتی جارہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے فلاحی ریاست کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کیلئے عوام کو خواب دکھائے مگر اٹھارہ ماہ گزرنے کے باوجود خواب‘ تعبیر پانے کے برعکس ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔معیشت سکڑنے اور بے روزگاری بڑھنے لگی۔ وفاقی دارالحکومت میں اگر چہ بہار کی آمد کے باعث موسم انتہائی خوشگوا ر ‘ شاہراؤں اور سرکاری عمارتوں کے اطراف رنگ برنگے پھولوں اور نظاروں کے باعث منظر دیدہ زیب ہوچکا لیکن اقتدارکے ایوانوں میں ہلچل اور بے چینی ہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ خلق خدااور ملکی معیشت مشکلات سے دوچارہیں۔ سرکاری اداروں اور حکومتی پالیسیوں میں استحکام کیلئے ہرنگاہ مضطرب ہے ۔ اعلیٰ عہدوںپر ایک مرتبہ پھر تبدیلیوں اور تقرریوں کی تیاری ہے۔ وزیراعظم‘وفاقی وزراء او ربیوروکریسی کے خالی جمع خرچ اور پریزنٹیشن سے تنگ آکرہراس اقدام پر آمادہ ہیں جس سے عوام کو فوری ریلیف‘معاشی سرگرمیوں اور پالیسیوں کو دوام مل سکے۔وزیراعظم آفس کے ایک سینئر عہدیدار نے روداد بیان کرتے ہوئے کہا گزشتہ ایک ہفتے کے دوران وزیراعظم عمران خان نے گرینڈ ریلیف پیکج کیلئے مختلف اداروں کے سربراہان سے تفصیلی ملاقاتیں کرکے تجاویز حاصل کیں۔وزیراعظم تین اقدامات کیلئے کمر کس چکے ہیں جن کے بغیر حکومت کی ساکھ بچانا ممکن نہیں۔ سٹیٹ بنک کے پالیسی ریٹ میں فوری کمی‘بجلی‘ گیس کی قیمتوں میں مجوزہ اضافہ مؤخر اور پٹرولیم مصنوعات سستی۔پلان تیارکیا جاچکا ہے مگر المیہ یہ ہے کہ حکومت مجبوراً وہی اقداما ت اٹھانے جارہی ہے جو گزشتہ حکومتوں نے عوام کو مہنگائی سے بچانے کیلئے اٹھائے ۔ ان اقدامات کو اسد عمر سمیت پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنماؤں نے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھاکیونکہ ماضی میںمہنگائی کو لگام ڈالنے سے عوام کو وقتی ریلیف ضرور ملا مگر پی ٹی آئی حکومت نے اقدامات کو بارودی سرنگوں سے تعبیر کیا تھا۔ ماضی میں سرکاری املاک کو گروی رکھ کر قرض لیا گیا تو موجودہ حکومت نے بھی بجلی کی سرکاری کمپنیوں کو گروی رکھ کر 200ارب روپے کا قرض لینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ بنکوں سے بولیاں موصول ہوچکیں‘ شارٹ لسٹنگ اور سکروٹنی کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ قرض 1ہزار900ارب روپے کے گردشی قرض میں کمی کیلئے حاصل کیا جارہا ہے جبکہ مارچ 2019میں وفاقی حکومت گردشی قرض کی ادائیگی کیلئے 200ارب روپے پہلے بھی لے چکی ہے۔ یہ توانائی کے شعبے میں قرض کی ادائیگی کیلئے نیا قرض‘جس کی ادائیگی بالاخر اسی عوام نے کرنی ہے جو آج بجلی اور گیس کے بل ادا کرنے سے قاصر ہیں۔وزیراعظم نے توانائی کے شعبے میں بہتری لانے کیلئے پاورسیکٹر کے ماہر ندیم بابر کو اختیاراور ٹاسک دیا مگر توانائی کا شعبہ بہتری کے بجائے مزید تباہی کی جانب گامزن ہے۔ سالانہ بجلی چوری اور لاسز250ارب روپے سے زائد اورگیس کے شعبے میںسالانہ نقصان 40ارب روپے سے متجاوز ہے۔ بجلی گیس کے نقصانات پورے کرنے کیلئے قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے مگر آج گھریلو صار ف موسم سرما میں بھی بجلی کا بل ادا کرنے کے قابل ہے نہ گیس کا۔ کمرشل اور صنعتی صارفین مہنگی توانائی کے باعث سراپا احتجاج ہیں۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیں توعالمی مارکیٹ میں ماہ فروری میں خام تیل 54ڈالر کی سطح پر آیا مگراضافی پٹرولیم لیوی‘ ریگولیٹری ڈیوٹی‘ڈیمڈ ڈیوٹی کے باعث عوام ریلیف سے محروم اور حکومت افراط زر کنٹرول کرنے میں ناکام رہی۔ وزیراعظم کومہنگی توانائی سے خلاصی کیلئے شارٹ ٹرم حل بتادیا گیاہے۔ سرکاری پلانٹس سے منافع کا حصول مؤخر‘ قرض کی وصولی 10برس کے بجائے 25سال میں‘نیلم جہلم سرچارج اور نیٹ ہائیڈل پرافٹ کی وصولی روک کر ہی عوام کوریلیف فراہم کیا جاسکتا ہے۔ آئل ریفائنریاںا پ گریڈیشن کے نام پر 15برس سے ہائی سپیڈڈیزل پر7فیصد ڈیمڈ ڈیوٹی کی مد میں اربوں روپے وصول کررہی ہیں‘پٹرولیم لیوی گزشتہ حکومتوں سے 10روپے فی لیٹر زائد وصول کی جارہی ہے۔ پٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل پر 8سے 13فیصد کسٹم ڈیوٹی الگ ہے۔ وزیراعظم کو پٹرولیم لیوی‘ڈیمڈ اورکسٹمز ڈیوٹی پرنظرثانی کرتے ہوئے عوام کو ریلیف اور افراط زر میں کمی لانے کی تجاویز جمع کروادی گئی ہیں۔یہی اقدامات افراط زر میں کمی پالیسی ریٹ کی تنزلی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کی راہ ہموار کریں گے۔