آج کل جنگیں میدان جنگ میں نہیں ہاری جاتیں، معیشت کے میدان میں ہاری جاتی ہیں۔ ساری کی ساری فوجیں دھری رہ جاتی ہیں اور قوم جنگ ہار جاتی ہے۔ سامنے کی بات ہے، روس سے بڑی عسکری طاقت تو کم ہی ہوا کرتی ہے۔ ایٹمی اسلحے میں بھی وہ ایک سپر پاور تھا۔آدھی دنیا پر اس کا راج تھا، اس کے نظریے اور اس کے سامراجی جاہ و جلال کی ہیبت تھی۔ کیا ہوا، سب کچھ دھرے کا دھرا رہ گیا۔ اتنی بڑی سلطنت دھڑام سے ایسے گری کہ کئی ٹکڑے ہو گئے۔ روسی ٹینک صرف اپنی پارلیمنٹ کا گھیراؤ کرنے کیلئے رہ گئے۔ نتیجے میں گورباچوف گئے اوریلسن آ گئے۔ قطاروں میں ڈبل روٹی لینے کا طعنہ دینے والے روسی اب روٹی کے ایک ایک ٹکڑے کو ترسنے لگے۔ اس کے ساتھ ہی روس کے انقلابی نظریے کی ساکھ بھی گر گئی۔ ہمارے ہاں کمیونزم کا کیسا کردار تھا۔ کہاں گئے وہ سب لوگ۔ جس طرح ہم طعنہ سنتے آئے ہیں کہ مغلیہ سلطنت کے شہزادے دو وقت کی روٹی کیلئے محتاج ہوئے تھے۔ دلی والوں میں ایک اصطلاح تھی کہ فلاں مغلانی ہے۔ مطلب تھا گھر میں کام کرنے والی ماسی ہے۔ مشہور یہی تھا کہ یہ وہ مغل شہزادیاں ہیں جو اپنا تن ڈھانپنے کیلئے اس حال کو پہنچی ہیں۔ روس کے اچھے دن گئے تو ہمارے ہاں کے انقلابی اپنے وجود کو برقرار رکھنے کیلئے امریکی انجمنوں اور مغربی این جی اوز کے دریوزہ گر بن کر انقلاب کے منہ پر زور سے مارا ہوا ایک طمانچہ بن کر رہ گئے۔ خلاف عادت اتنی لمبی کہانی سنانے کا مقصد صرف اس دکھ کا اظہار ہے کہ مشرقی پاکستان میں ہاری ہوئی جنگ تو شاید اب بھی جیتی جا سکتی ہے جس طرح ایک دانشور شاعر نے کہا تھا کہ تم پلاسی اور بکسر کی جنگ تو جیت سکتے ہو مگر یہ جو جنگ ہم اب ہار رہے ہیں اس کا جیتنا آسان نہیں ہے۔ اس لئے میں مشرقی پاکستان کے سانحے پر بھی اتنا آزردہ نہیں تھا جتنا آج اداس ہوں۔ میرے لئے یہ بحث بے معنی ہے کہ کس کی ہار ہوئی، کس کی فتح۔ مجھے تو اتنا علم ہے کہ ہمارا واٹرلو بنایا جا رہا ہے، ہمیں کریملن کے چوراہے میں تنہا کیا جا رہا ہے۔ ہم اگر خاکم بدہن اپنی یہ اقتصادی جنگ ہار گئے تو نہ ہماری سلامتی باقی رہے گی اور نہ ہمارا کوئی نظریہ۔ دشمن نے شام اور عراق میں یہ جنگ اور طرح لڑی ہے۔ ہم سمجھتے تھے ہم جیت رہے ہیں داعش دراصل دولت اسلامیہ عراق و شام ہی تو نہیں۔ پتا چلا یہ تو ہمیں گھیر گھیر کر مارا گیا ہے۔ کہاں گیا ہمارا وہ خلیفہ ابوبکر بغدادی۔ یہ تو خیر میں دوسری طرف نکل جاؤں گا۔ ہاں یہ جنگ دوسری طرح کی ہے۔ ہمیں بہت الجھایا گیا۔ بہت پھنسایا گیا۔ ہم نے تمام شکنجے، تمام پھندے جھٹک دیئے تھے۔ ملک ترقی کی راہ پرجو چل پڑا تھا۔ شرح نمو 6 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ دنیا بھر کے تاجر اور سرمایہ کار ہمارے دروازے پر دستک دے رہے تھے کہ ہم نے اپنے ہاں تین مسائل حل کر دیئے تھے۔ دہشت گردی کا مسئلہ، انرجی کا مسئلہ اور لاجسٹک کے مسائل۔ مالی اداروں نے ہماری ریٹنگ کی تعریف کی تھی۔ اسی آئی ایم ایف نے ہماری ترقی کو سراہا تھا۔ مگر دشمن نے ہمیں ایسی پٹخنی دی ہے کہ آنے والی نسلیں اسے کبھی فراموش نہیں کر سکیں گی۔ اس نے یک زبان ہو کر کہا ہم سی پیک کو چلنے نہیں دیں گے۔ یہ آوازیں بھارت ہی سے نہیں آئیں، امریکہ نے بھی زبان دراز کی۔ ہم نے سوچا یہ کون ہوتے ہیں، ہمیں روکنے والے۔ انہوں نے اس خطے کو متنازعہ کہنا شروع کر دیا جہاں سے ہو کر ہماری ترقی کا راستہ گزرتا تھا۔ ایسا راستہ روکا کہ سارے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ اورنج لائن تو ہماری ذہنی بے بسی کا منہ چڑا رہی ہے۔ کیا کوئی قوم اپنی اتنی بڑی دشمن ہو سکتی ہے۔ یہ کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ ملک کے اندر چین کے خلاف ایک فضا پیدا کی جانے لگی۔ مرا ماتھا اس دن ٹھنکا تھا جب مین نے ایک دو ٹی وی چینلوں پر ٹریفک کے حادثات کی تصاویر دیکھیں۔ روز ایک تصویر دکھائی جاتی۔ ساتھ ذکر ہوتا یہ حادثہ چین کے فلاں شہر یا علاقے میں ہوا ہے۔ یوں لگتا تھا کہ دماغوں کو مسموم کیا جا رہا ہے کہ چین کو تو ابھی اپنی ٹریفک کو محفوظ رکھنا نہیں آتا، وہ آپ کی مدد کیا کرے گا۔ مرے جیسے کم آواز چیختے رہے ہمارے ساتھ ہاتھ ہو رہا ہے مگر ہمیں اس کا اندازہ تک نہ ہوا۔ آخر میں تنگ آ کر یہ بھی عرض کر دیا کہ اکنامک ہٹ مین گر گیا ہے۔ اب ہمارے ہاتھ پاؤں مروڑے جائیں گے۔ ایک عجیب اتفاق ہوا۔ جب ہم نے مصر میںآئی ایم ایف کے نمائندے کو اپنے سٹیٹ بنک کا گورنر بنا کر بلوایا تو کسی نے کہا، کہیں مصر کا ماڈل تو نہیں دہرایا جا رہا۔ مصر واحد ملک تھا جو اسرائیل کو آنکھیں دکھا سکتا تھا۔ اس کی بدقسمتی کہ عرب بہاراں کے نتیجے میں وہاں فوجی حکومت کا تختہ الٹا گیا اور عام انتخابات کا ڈول ڈالا گیا۔ اس پورے خطے میں لوگوں نے نظریاتی طور پر ایسے لوگوں کو منتخب کیا جو خدا اور اسلام کا نام لیتے تھے۔ مصر میں اخوان المسلمین کے حامیوں نے 40فیصد ووٹ لیے اور ایک دوسری مذہبی جماعت النور نے 25فیصد رائے دہندگان کی حمایت حاصل کی۔ مجبوری تھی جمہوریت نے خدا اور اس کے ماننے والوں کو فتح دلا دی تھی۔ ان کے نمائندے مرسی صدر منتخب ہو گئے۔ اسی وقت کہہ دیا گیا یہ ایک سال کی حکومت ہے۔ یہ الگ کہانی ہے کہ کس نے کیا کہا۔ ایک سال کے اندر فوج نے اسے رخصت کیا۔ بقول کسے مرسی پنجرے میں تھا اور جنرل السیسی ایوان اقتدار میں۔ امریکہ نے کہا، کوئی پریشانی کی بات نہیں، جمہوریت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، سب کچھ ایک عمل کے تحت ہو رہا ہے۔ اس وقت وہ پارٹی جس کے 25فیصد ووٹ تھے اور جو حکومت کی اتحادی تھی، وہ بھی باغی ہو گئی۔ النور پارٹی سعودی عرب کی حمایت یافتہ تھی۔ اس نے اس فوجی بغاوت کی حمایت کر دی۔ پھر کیا ہوا، وہی جو ہمارے ساتھ ان دنوں ہوا ہے۔ خزانوں کے منہ کھول دیئے گئے۔ سعودی عرب نے 8بلین ڈالر اور امارات نے 4بلین ڈالر فوراً مصر کی نئی فوجی حکومت کی مدد کے لیے بھیجے۔ ہمارے ہاں بھی تو گزشتہ دنوں اچانک یہ دولت آئی تھی۔ مگر یہ ایک عارضی بندوبست تھا۔ وقت کا پہیہ آگے بڑھتا گیا۔ اس وقت آئی ایم ایف نے مصر کے ساتھ جو پیکج کیا ہے، اس نے اس کی معیشت کے ساتھ وہ کیا ہے، جو اب ہمیں اپنے ساتھ ہوتے دکھائی دیتا ہے۔ بے روزگاری، غربت کے جو اعداد و شمار اب مصر سے آ رہے ہیں، وہ ہمیں ڈرا رہے ہیں کہ کہیں یہ سب کچھ ہمارے ہاں تو نہیں ہو رہا۔ اکنامک ہٹ مین جب پانامہ یا لاطینی امریکہ کے دوسرے ممالک میں جاتے تھے، ان کا ہدف اور ہوا کرتا تھا، ہمارے ہاں ذرا نیا ماڈل ہے۔ اس طرح کبھی ہمارا گلا نہیں گھونٹا گیا۔ کہا جاتا ہے، معیشت جو اتنی خراب تھی اور اس خرابی کی وجہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کرپشن کی اور جو اب اقتدار میں نہیں ہیں، ہم ان کو پنجروں میں بند کر کے عوام کے سامنے کھڑا کر رہے ہیں اور عوام ہیں کہ بلک رہے ہیں، سب کاروبار ٹھپ پڑا ہے۔ مارکیٹ سے ڈالر غائب ہے اور کسی کے کان پر جوں نہیں رینگ رہی۔ سرکار نے تمام ترقیاتی پروگرام بند کر رکھے ہیں۔ کہتے ہیں پیسہ نہیں ہے۔ یہ جو اربوں کھربوں روز بنکوں سے لیا جا رہا ہے یہ کدھر جا رہا ہے۔ سی پیک کے منصوبوں پر کام رکا ہوا ہے،وگر نہ معیشت کا پہیہ کچھ تو حرکت میں رہتا۔ مگر مقصد یہ نہیں، مقصد تو یہ ہے منڈیوں میں دھول اڑتی پھرے۔ اس وقت ہر قسم کا کاروبار ٹھپ پڑا ہے۔ سٹیٹ بنک نے شرح سود میں اور اضافہ کر دیا ہے۔ روپے کی قدر روز گرتی جا رہی ہے۔ بازار میں مایوسی ہے۔ ہمارے اکنامک منیجر بھی ایسے ہیں جو شاید ہمارے گناہوں کی سزا ہیں۔ ان پر کسی کو اعتبار نہیں ایسی بے چینی، ایسی اداسی کبھی نہیں دیکھی گئی۔ اعلان کیا گیا تھا کہ سی پیک کا راستہ روک دیا جائے گا۔ روک دیا گیا۔ اس کے لیے سب مجرم ہیں۔ اس قوم کے مجرم، تاریخ کے مجرم اور رب ذوالجلال کے مجرم۔ اقتصادی طور پر ہم اس طرف بڑھتے جا رہے ہیں جس کے بعد ہماری سلامتی اور خود مختاری پر بہت سے سوال پیدا ہونا شروع ہو جائیں گے۔ مجھے نہیں معلوم یہ پرانے ہٹ مین کا ماڈل ہے یا مصر کا نیا ماڈل، مجھے اتنا پتا ہے کہ آسمانوں سے ایس او ایس (SOS)کی صدائیں آتی رہی ہیں۔ ہم یہ اقتصادی جنگ ہار گئے تو دینی نظریاتی جنگ بھی ہار جائیں گے۔ سلامتی کے لالے پڑ جائیں گے، ہماری روح بہت اضطراب میں ہے اور چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے۔ مجھے بچا لو، مجھے بچا لو۔ کوئی ہے جو یہ آواز سنے۔ کوئی نہیں سنے گا تو مرا خدا تو سنے گا۔ ہم یہ معرکہ ضرور سر کر لیں گے۔ انشاء اللہ!