لاہور (فورم رپورٹ : رانا محمد عظیم ، محمد فاروق جوہری ) مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام نے قراردیا ہے کہ حضرت امام حسین ؓ نے باطل کے آ گے سر نہ جھکانے کا درس دیا جبکہ صبر اور استقلال کی اعلیٰ مثال قائم کی ۔ روزنامہ92نیوز فورم سے گفتگو کرتے ہوئے مفتی راغب نعیمی نے کہا کہ نبی کریم ؐ کے وصال کے بعد حضرت ابو بکر صدیق ؓ اور ان کے بعد با لترتیب حضرت عمر ؓ، حضرت عثمان ؓ اور حضرت علی ؓ مستند خلافت پر جلوہ افروز ہوئے ۔حضرت عمر ؓ ، حضرت عثمان ؓ اور حضرت علی ؓ کی شہادتیں در حقیقت سلطنت فار س کے ان افراد کی سازش تھی جو مسلمانوں کے سلطنت فارس پر قبضہ برداشت نہ کر سکے ، پھر حضرت امیر معاویہؓ کے بعد یزید کی حکومت آ ئی ۔حضرت امام حسین ؓ نے یزید کی بیعت کی نہ اسکی خلافت کو قبول کیا ،آ پؓ کی نظر میں ایسا شخص خلافت کے لائق نہ تھا جس کا ہر فعل شرعیت سے متصادم تھا۔ حضرت امام حسینؓ اپنی اور اپنے خاندان کی زندگیاں بچا سکتے تھے لیکن آ پ نے عظمت کا راستہ اختیار کیا ۔ شہادت حضرت اما م حسین ؓ ہمیں باطل کے آ گے سر نہ جھکانے کا درس دیتی ہے ۔مرکزی جمعیت اہل حدیث کے سربراہ سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ حضرت امام حسینؓ کی شہادت تاریخ اسلام کا نہایت المناک اور افسوسناک باب ہے ۔ اس تاریخی سانحہ کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے ۔ حضرت امام حسینؓ کی شہادت کے واقعہ میں امت مسلمہ کیلئے بہت سے اسباق پوشیدہ ہیں، اس عظیم الشان قربانی میں استقلال،صبرو استقامت بھی ہے ۔ امت مسلمہ کو شہادت امام حسینؓ کے تاریخی سانحہ کو سامنے رکھ کر متحد ہونا چاہئے اور ہر قسم کے نفاق کو ختماورصیہونی قوتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہئے ۔ علامہ محمد حسین اکبر نے کہا کہ حسینیت کا درس یہی ہے کہ مظلوموں کا ساتھ دیا جائے ۔اس وقت عالم اسلام بالخصوص کشمیری مسلمانوں کے جو حالات ہیں ان کیلئے ہر دن یوم عاشو بنا ہوا ہے اور مودی کی حکومت ان مسلمانوں کیلئے یزید کی حکومت بنی ہوئی ہے ۔ مودی نے مسلمانان کشمیر پر عرصہ حیات تنگ کر کے عملاً یزید ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔ جب مسلمانوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم کر دیا جا تا ہے تو ان کیلئے ہر دن یوم عاشور اور ہر جگہ کربلا بن جاتی ہے ۔ اگر دنیا اور آ خرت میں کامیابی کا راستہ چاہتے ہیں تو ہمیں حضرت امام حسین ؓ کی سوچ کو اپنانا ہو گا۔