لاہور (فورم رپورٹ : رانا محمد عظیم ، محمد فاروق جوہری )حکومت کی جانب سے کورونا پر کی گئی تدابیر بہترین ہیں،حکومت جو اقدامات کر رہی ہے ان میں بہتری کی گنجائش ہے ، ان خیالات کا ا ظہار حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے رہنمائوں نے روزنامہ92 نیوزفورم سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نذر محمد گوندل نے کہا کہ وزیر اعظم کو لاک ڈائون پر مزدور اور پسماندہ طبقہ کی فکر ہے اور ان کیلئے امدادی پیکیج دیا۔ حکومت نے جو تدابیر اختیار کیں وہ بہترین ہیں،جو سوشل اور اخلاقی تدابیر اختیار کر سکتی تھی وہ کی ہیں۔ ماضی کے بر عکس حکومت نے مستحقین میں راشن بھی تقسیم کیا، فوٹو سیشن کیلئے بیگز پر کسی کی تصویر نہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان نے جتنی تشویش پسماندہ طبقہ کو لیکرظاہر کی اتنی کوئی نہیں کر سکتا۔ لاک ڈائون کا کہا گیا تو کر دیا گیا لیکن کبھی کسی نے سوچا کہ پسماندہ طبقہ کہاں جائیگا اور وزیر اعظم کو یہی پریشانی ہے ۔ مسلم لیگ ن کے رہنما ڈاکٹر اسد اشرف نے کہا کہ حکومت کورونا سے متعلق اقدامات شروع کرتی ہے اور ساتھ ہی ختم بھی کر دیتی ہے ، حکومت خود الجھن کا شکار ہے ، اقدامات میں بہتری کی گنجائش ہے ،تمام سٹیک ہولڈرز، پروفیشنلز کیساتھ مشاورت کرنی اور کورونا پر دنیا کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہئے ۔ پبلک اور پرائیوٹ سیکٹر کو آ ن بورڈ لیکر لائحہ عمل مرتب کرنا چاہئے ۔ پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ حکومت نے اپوزیشن کی تجاویز کو اہمیت نہیں دی اوردیر سے اقدامات کئے ، ہٹ دھرمی کا مظاہرہ نہ کرتی تو بہتر ہم آہنگی ہو سکتی تھی۔ ہم نے حکومت کو کہا تھا کہ مارچ کے شروع میں ہی اقدامات کر لیں اور لاک ڈائون کر لیں لیکن حکومت نے نہ کیا ۔جب صوبائی حکومتیں لاک ڈائون کر رہی تھیں وزیر اعظم نے کہا صورتحال خراب ہو جائیگی، ہم نے جلدی کرنیکا کہا لیکن نہ کیا اور دیر سے انتظامات کئے جن کے نتیجہ میں حالات قابو سے با ہر ہو گئے ۔ وزیر اعظم نے جو پوزیشن لی تھی اس سے صورتحال مزید خراب ہوئی ۔ ہم نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ کے ذریعے مستحقین میں راشن اور پیسے تقسیم کر دیں لیکن حکومت نہ مانی، اب 15 دن گزر نے کے بعد اسی پلیٹ فارم کو استعمال کیا ہے ۔