لاہور(فورم رپورٹ : رانا محمد عظیم ، محمد فاروق جوہری )وزیر اعظم پاکستان عمران خان نیشنل ایجنڈہ لیکر امریکہ جا رہے ہیں اس لیئے اس دورہ سے پاک امریکہ تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں ۔امریکہ کو پاکستان سے دو مفادات ہیں ایک افغانستان سے اپنے فوجیوں کا انخلا اور دوسرا ایران کے حوالے سے تحفظات ، عمران خان کے دورہ امریکہ پر ان دونوں ایشوز پر بات ہو گی ۔امریکہ کے ساتھ جو ہماری ملٹری اسلحہ کی ڈیل اور ملٹری ٹریننگ معطل ہے اس حوالے سے بھی وہاں بات ہو گی اور امید ہے کہ یہ معطلی ختم کر دی جائے گی ۔ ان خیالا ت کا اظہار خارجہ امور کے ماہرین نے روزنامہ 92نیوز فورم سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ یوکرائن میں پاکستان کے سفیر جنرل (ر)زاہدمبشر شیخ نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے دورہ امریکہ سے بہت سی توقعات وابستہ ہیں پاکستان کی نمائندگی اس بار ایک مثبت شخص کر رہا ہے اور عمران خان نیشنل ایجنڈہ لیکر ا مریکہ جا رہے ہیں اس سے پہلے تقریباَ سب ہی حکمران پرسنل ایجنڈہ لیکر امریکہ جاتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ جب ایجنڈہ نیشنل ہو تو پھر بہتری کی صورتحال نکل آتی ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ ایران کے حوالے سے ہم سے بات کر تا ہے تو ہم اس میں بہت کلئیر ہیں کہ ایران ہمارا ہمسائیہ ہے او ہم اپنے ہمسایوں کے خلاف کوئی اقدام نہیں کریں گے انہوں نے کہا کہ ایران کا ابھی وزیر اعظم نے دورہ بھی کیا اور ایران کی اہمیت سے بھی بخوبی واقف ہیں ۔سابق وزیر خارجہ سردار آ صف احمد علی نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کا سارا دورہ امریکہ افغانستان اور ایران کے گرد ہی ہو گا ۔ امریکہ پہلے تو افغانستان کی بات کرے گا کہ وہ وہاں امن چاہتا ہے اور ہماری بھی یہی خواہش ہے ۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کے حوالے سے ہم پہلے ہی اپنا رول ادا کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف ملٹری آ پریشن کی بات یا اس پر پابندیوں کو مزید سخت کرنے کے حوالے سے بات کرے اگر یہ بات ہو گی تو ہمارے لیئے مشکل بھی پیدا ہو سکتی ہے ہمیں اس موقع پر اپنے کارڈز بہت احتیاط سے کھیلنا ہو ں گے ،انہوں نے کہا کہ امریکہ اس وقت بھارت سے زیا دہ خوش نہیں کیونکہ ٹرمپ کی مرضی کے خلاف بھارت فرانس سے اسلحہ خرید رہا ہے ہمارے پاس یہی موقع ہے کہ بھارت کو پیچھے کر کے ہم اپنے تعلقات کو امریکہ کے ساتھ بہتر کر لیں ۔ معروف تجزیہ کار حسن عسکری نے کہا کہ امریکہ کا مفاد اس وقت افغانستان میں ہے وہ چاہتے کہ وہاں سے ان کی افواج کی واپسی ہو جائے اور پاسکتان اس سلسلہ میں اپنا کردار ادا کرے وہ پاکستان کی مدد چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں جو تنائو ہے وہ شائد مکمل طور پر ختم نہ ہو سکے لیکن اس میں کسی حد تک کمی واقع ہو سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنا فوجی اسلحہ اور ٹریننگ کی بحالی کی بھی بات کرے گا، انہوں نے کہا کہ اگر ایران کے حوالے سے امریکہ ہم سے ملٹری ایکشن کی بات کرے گا تو یہ اس کی دوغلی پالیسی ہو گی کیونکہ ایک طرف تو وہ افغانستان سے انخلا چاہ رہا ہے دوسری طرف ایران کے ساتھ محاذ کھولنا علاقہ کو ایک مرتبہ پھر غیر مستحکم کرنے والی بات ہو گی ۔