پاکستان اپنی عسکری صلاحیتوں میں اضافہ کے لیے چینی کمپنی شینگ ڈو ائیر کرافٹ کے تیار کردہ ونگ لونگ جاسوسی اور میزائل حملوں کے لیے استعمال ہونے والے 48 ڈرون خریدے گا۔ جنوبی ایشیا میں بھارت کی غیر معمولی عسکری تیاریوں اور اسرائیل اور امریکہ سے عسکری معاہدوں کی وجہ سے خطہ طاقت عدم توازن کا شکار ہو گیا ہے۔ ایک عسکری تنظیم کی 2017ء کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت دنیا کی طاقتور افواج میں پانچواں نمبر جبکہ پاکستان اس فہرست میں 11 ویں نمبر پر تھا۔ پاکستان ہمیشہ سے ہی کم از کم دفاعی صلاحیت کے بنیادی اصول پر کارفرما رہا ہے مگر بدقسمتی سے بھارتی جنگی جنون پاکستان کو بھی اپنی کم از کم دفاعی صلاحیت بڑھانے پرمجبور کرتا ہے۔ گزشتہ سات برسوں سے بھارت دنیا میں اسلحہ کا سب سے بڑا خریدار ملک رہا ہے تو پاکستان نے اپنے ہتھیاروں کی خریداری میں 36 فیصد کم کی ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی کو لاحق خطرات سے زیادہ دیر تک نظر نہیں چراسکتا۔ گزشتہ برس بھارت نے امریکہ سے ایف 16 طیاروں کی بھارت میں تیاری کا معاہدہ کیا تھا تو گزشتہ دنوں صدر پیوٹن کے دورہ بھارت کے دوران روس سے ایس 400 ایئرڈیفنس سٹم خریدنے کا معاہدہ کیا ہے جس کے بعد خطہ میں طاقت کا توازن خطرناک حد تک بگڑ گیا تھا۔ ان حالات میں پاکستان کو اپنی جغرافیائی سرحدوں کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے اقدامات کی اشد ضرورت تھی۔ پاکستان کی چین سے ونگ لونگ ڈرون خریدنے کے ساتھ ان کی پاکستان میں تیاری کا معاہدہ دفاعی خودانحصاری کی جانب اہم سنگ میل ثابت ہوسکتاہے۔ بہتر ہوگا بھارتی جنگی جنون کے آگے بند باندھنے کے لیے پاکستان اسلحہ کی خریداری کے بجائے سامان حرب کی ملک میں تیاری پر بھرپور توجہ د یے تاکہ خود انحصاری کی منزل پا کر دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا جاسکے۔ بجلی چوروں کیخلاف وزیر اعلیٰ کی ٹاسک فورس وزیر اعظم کی بجلی چوری کیخلاف مہم کے حوالے سے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ٹاسک فورس تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کے تحت پہلے مرحلہ میں صنعتی و تجارتی اور زیادہ بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کیخلاف ایکشن لیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے کہ بجلی چوری روکنے کا آپریشن بلا امتیاز ہو گا اور بڑے بجلی چوروں پر پہلے ہاتھ ڈالا جائے گا۔ وزیر اعظم عمران خان نے رواں سال اگست کے اواخر میں بجلی چوری روکنے کے لیے ٹاسک فورس بنانے کی ہدایت کی تھی۔ بجلی چوری ملک میں موجود توانائی کے بحران کی بڑی وجہ ہے، حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی محکمے کی ملی بھگت کے بغیر کرپشن نہیں ہو سکتی۔ بڑے بڑے صنعتکاروں اور تاجروں نے بجلی چوری کے اپنے نیٹ ورک بنا رکھے ہیںجس کے نتیجہ میں کئی برسوں سے ملک کو بجلی کے بڑے بحران کا سامنا ہے۔ یہی نہیں بعض بڑے گھروں کی طرف سے بھی بجلی کے بڑے بلوں سے بچنے کے لیے اس طرح کی ہیرا پھیری کی جا رہی ہے اور اس کا زیادہ تر بوجھ غریب گھرانوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ جن کے لیے بجلی کا ماہانہ بل ادا کرنا بھی مشکل ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بجلی چوری کے خلاف بھرپور اور بلا امتیاز آپریشن کیا جائے اور کسی رشتہ داری، قرابت اور سیاسی وابستگی کو اس میں حائل نہ ہونے دیا جائے۔ بجلی چوری بھی درحقیقت مقررہ حد سے تجاوز کرنے کے مترادف ہے اور ان کیخلاف بھی ویسا ہی آپریشن کیا جانا چاہیے جیسا قبضہ مافیا اور ناجائز تجاوزات کیخلاف کیا جا رہا ہے۔ اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ پہلے بڑے مگر مچھوں کو ہی پکڑا جائے اور اس کے دوران محکمہ کے ایسے اہل کاروں کیخلاف بھی کارروائی کی جانی چاہیے جو بجلی چوری میں ان چوروں کی معاونت کرتے ہیں تاکہ آپریشن سے مطلوبہ مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔