انقرہ ، دمشق، تہران، ماسکو ( اے ایف پی ،نیٹ نیوز) ترکی نے شام میں فوجی آپر یشن شر وع کر دیا ہے ۔شامی مبصر گروپ نے کہا ہے کہ ترکی کے فوجی آپریشن میں 8 شہریوں سمیت 15 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔سعودی عرب نے ترکی کے شام میں آپریشن کی مخالف کی ہے جبکہ برطانیہ نے کہا ہے کہ اسے ترک آپریشن پر سنجیدہ تحفظات ہیں۔ایران نے بھی آپر یشن کی مخالفت کی ہے ۔ترک صدر طیب اروان نے کہا ہے کہ تر ک فو جی کاررو ائی کو "آپر یشن پیس سپر نگ "کا نام دیا گیا ہے ۔یہ آ پر یش شامی کر دوں اور داعشی جنگجو ئوں کی جانب سے دہشت گر دانہ دھمکیوں کے بعد شر وع کیا گیا ہے ۔ترک فوجی ذرائع نے شام میں آ پر یشن شر وع ہو نے کی تصدیق کرتے ہو ئے کہا ہے کہ گز شتہ روز شمالی شام میں طیاروں کے ذریعے بمباری اور تو پ خانوں کے زریعے گو لہ باری سے آپر یشن کا آغاز کر دیا گیا ہے ۔قبل ازیں ترک صدر نے اپنے ایک ٹو یٹ میں شمالی شام کے علاقوں میں فوجی آ پریشن شر وع کر نے کا عندیہ د یا تھا۔ ترک کردوں پر مشتمل سیرین ڈیموکریٹک فورسز نے کہا ہے کہ شمالی علاقوں میں ترک طیاروں کی فضائی کا رروائی سے لو گوں میں شدید خو ف وہر اس پھیل گیا ہے ۔ قبل ازیں ترکی میں صدارتی دفتر کے ڈائریکٹر کمیونی کیشن فخر الدین التون کا کہنا تھا کہ ترکی کی فوج "کچھ دیر بعد" شامی جیشِ حر کے ساتھ شام کی سرحد عبور کرنے والی ہے تا کہ علاقے میں فوجی آپریشن کا آغاز کیا جا سکے ۔ وہاں موجود کرد جنگجوؤں کو اپنی وفاداریاں تبدیل کرنا ہوں گی بصورت دیگر ترکی اس بات پر مجبور ہو جائے گا کہ ان لوگوں کو داعش تنظیم کے جنگجوؤں کے خلاف انقرہ کی کوششوں میں تعطل پیدا کرنے سے روکے ۔دوسری جانب سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) نے عالمی برادری سے مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ترکی کی فوج کے شامی اراضی میں داخل ہونے کی صورت میں انسانی المیہ جنم لے گا۔ ادھر ایرانی وزیر خارجہ نے شام میں ترکی کے فوجی آپریشن کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ترکی شام کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کا احترام کرے ۔ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے ترک ہم منصب سے ٹیلی فونک گفتگو کی۔جواد ظریف کے مطابق ایران شام میں ترک ملٹری آپریشن کی مخالفت کرتاہے ،ترکی شام کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کااحترام کرے ۔ ا دھر روس کے وزیر خارجہ سرگئی لا روو ف کا کہنا ہے کہ ماسکو شام کے شمال مشرق میں حالیہ صورت حال کے حوالے سے شامی حکومت اور کردوں کے درمیان بات چیت کی دعوت دیتا ہے ۔ ترک سکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ شمالی شام میں فوجی آپریشن فضائی کارروائی سے شروع کیا گیا ہے اور اس میں بری فوج کا تعاون بھی حاصل ہوگا۔ترک میڈیا کے مطابق راس العین میں بمباری کی گئی، طیاروں کے اڑنے کی آوازیں بھی سنی جاسکتی ہیں اور عمارتوں سے دھواں اڑتا ہوئی نظر آرہا ہے ۔شام کا کہنا ہے کہ وہ ترکی کی کسی بھی جارحیت کا قانونی طریقے سے جواب دینے کیلئے تیار ہیں۔نیدر لینڈز نے شام میں آپریشن شروع کرنے کے بعد ترک سفیر کو وضاحت کیلئے طلب کر لیا۔ادھر سفا رتی ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ کی سلا متی کونسل نے شمالی شام میں کردوں کیخلاف ترکی کے فوجی آپریشن کی صو رتحال پر غور کیلئے آ ج اجلاس بلا لیا ہے ۔بند کمرے میں یہ اجلاس آج جمعرات کو ہو گا ۔ یہ اجلاس فر انس ، جرمنی ، بیلجیم ، بر طانیہ ،پو لینڈ کی درخو است پر بلا یا گیا ہے ۔ علا وہ ازیں یورپی کمیشن کے صدر ژاں کلاڈ جنکر نے ترکی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام میں کرد جنگجوؤں کے خلاف اپنی فوجی کارروائی روک دے ۔انھوں نے ترکی پر واضح کیا ہے کہ اگر اس نے یہ کارروائی جاری رکھی تو یورپی یونین شام میں مجوزہ ’سیف زون‘ کے قیام کے لیے کوئی رقم نہیں دے گی۔