لا ہو ر ( میاں رؤف )دوران ڈیو ٹی ٹریفک اسسٹنٹ ساجد کی ہلا کت کے معاملہ پر یوم عاشور کے بعد باقاعدہ انکوائری کی جائے گی، جس میں اس بات کی تحقیقات کی جائے گی کہ ساجد کی طرف سے مزید چھٹی کی درخواست دی گئی تھی یا نہیں، اگر دی گئی تھی تو اسے چھٹی کیوں نہ دی گئی ؟ کیا ٹریفک اسٹنٹ ساجد اپنی غیر حا ضری لگنے کے خوف سے جا ن کی با زی ہا ر گیا ؟ذرا ئع کا کہنا ہے کہ دوران ڈیو ٹی ٹریفک اسٹنٹ ساجد کی مو ت ہو نے کے افسو سنا ک واقعہ میں افسروں کی غفلت ہو نے یا نہ ہو نے کی نکو ائری کرائی جا ئے گی جس کی روشنی میں محکما نہ کا رروا ئی ہوگی ۔ذرا ئع کا کہنا تھا کہ موذی بیما ری کا شکارٹریفک اسٹنٹ ساجدنے حا لت ٹھیک نہ ہو نے پر مزید چھٹی کی درخوا ست کی لیکن اسے ڈیو ٹی پر حاضر ہو نے کا حکم دیا گیا اور نہ آنے پر سخت محکمانہ ایکشن لینے کا بتا یا گیا ۔باوثوق ذرا ئع کے مطا بق دوروز قبل مو زی بیما ری کا شکارٹریفک اسٹنٹ ساجدراوی روڈ سکیٹر میں دوران ڈیوٹی بیماری کی حالت میں بے بس ہو کر گرا اور جان کی بازی ہار گیا۔ جس پر ٹریفک پولیس کے ماتحتوں اور شہریوں میں شدید تشویش پائی جا تی ہے ۔ذرائع کا کہناہے کہ اس سے قبل بھی اس طرح کا واقعہ رونما ہو چکا ہے جس میں مو ت نہیں ہو ئی لیکن اعلیٰ حکام کی جا نب سے غلط رپو ر ٹ کی گئی تھی ؟جس میں ٹر یفک پو لیس کے اعلیٰ افسر نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں زیر علاج ڈی ایس پی ٹر یفک سرکل ما ل روڈندیم بٹ کے خلاف ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے کے متعلق سپیشل رپورٹ بنا کر آئی جی پنجاب کو بھجوا دی اور سفارش کی کہ اسکے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے ۔ آئی جی پنجاب کے حکم پر جب اس معاملے کی انکوائری ہوئی تو ڈی ایس پی ٹریفک ندیم بٹ اپنی میڈیکل رپورٹس انکوائری میں لے گیا اور بتایا کہ اسے اہل خانہ نے ہارٹ اٹیک کے باعث ہسپتال داخل کرایا اور حکام کو اطلاع بھی کی تب محکمے کے متعلقہ شعبہ کے عملے نے ڈی ایس پی کی رپورٹ اور ہسپتال میں تصاویر بنا کر افسروں کو بھجوائی اور اسکا سرکاری سطح پر علاج بھی کرایا جبکہ ایس پی سٹی حماد و دیگر نے اسکی عیادت بھی کی جس پر اس سپیشل رپورٹ کو داخل دفتر کر دیا گیا۔آئی جی پنجاب نے ڈی ایس پی کی خواہش پر اسکاتبادلہ ایس پی یو میں کر دیا۔