قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کو بتایا گیا کہ نئی چلائی جانے والی ٹرینوں میں تین منافع اور سات خسارے میں چل رہی ہیںتاہم مجموعی طور پر منافع ہو رہا ہے۔ کمیٹی نے ریلوے پھاٹکوں کے مسائل حل کرنے کے لئے پہلے مرحلے میں چیف سیکرٹری پنجاب اور ریلوے سے تیل پر ٹیکس لینے کے معاملہ پر سیکرٹری پٹرولیم اور ایم ڈی پی ایس او کو کمیٹی میںبلایا گیا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ حکومت نے برسراقتدارآتے ہی ریلوے کی ترقی پر خصوصی توجہ دی ہے اور اس اہم محکمہ کو خسارے سے نکالنے کے لئے متعدد اقدامات کئے ہیں جن میں بہت سی نئی ٹرینوں کا آغاز بھی شامل ہے۔ قیام پاکستان کے بعد خصوصاً ایوب خاں کے دور میں ریلوے ملک کا ایک منافع بخش ادارہ تھا اور ٹرینوں کی آمدورفت کے اوقات کے حوالے سے بھی مسافر مطمئن تھے لیکن بعد کی حکومتوں نے اس کے ساتھ جو کھل کھیلا اس سے ریلوے سب سے خسارے والا ادارہ بن کر رہ گیا، حتیٰ کہ کئی ریلوے سٹیشن اور ٹرینیں بھی ختم کر دی گئیں ۔ موجودہ حکومت کے اقدامات سے اب امید کی جا سکتی ہے کہ نئی ٹرینوں کے اجراء سے ریلوے کے خسارے پر قابو پا لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ٹرینوں کی آمدورفت میں تاخیر کے ساتھ ساتھ ریلوے لائنوں اور پھاٹکوں کی گہری نگہداشت کے حوالے سے پیدا ہونے والے مسائل کا حل بھی ضروری ہے تاکہ ریلوے ٹریفک کو حادثات سے بچایا جا سکے، اس سلسلہ میں عوامی شکایات پر خصوصی توجہ دے کر ان کا تدارک کیا جانا چاہئے تاکہ ریلوے کی آمدنی بڑھا کر اس کو منافع بخش ادارہ بنایا جا سکے