لاہور( حافظ فیض احمد) پرائیویٹ سیکٹر کی عدم دلچسپی کے باعث ٹرینوں کو آؤٹ سورس کرنے کا معاملہ التو امیں پڑ گیا ، دوسری بار بھی ہزارہ ایکسپریس اور فرید ایکسپریس کی نیلامی میں کسی کمپنی نے حصہ نہ لیا ، یوم عاشور کے بعد نیا ٹینڈر جاری کرنے سے متعلق حکمت عملی تیار کی جائے گی، خوشحال خان خٹک ٹرین کو آؤٹ سورس کرنے اور ٹینڈر جاری کرنے کے حوالے سے بھی فیصلہ کیا جائے گا، ذرائع کے مطابق ہزارہ ایکسپریس اور فرید ایکسپریس کا کنٹریکٹ13اگست اور20اگست کو ختم ہونے کے بعد ریلوے نے کنٹریکٹ میں توسیع سے انکار کر دیا اور ان کا کنٹرول خود سنبھال لیا ،ان ٹرینوں سے ریلوے کو سالانہ2ارب روپے کی آمدن ہو رہی تھی،قبل ازیں پراکس کے ذریعے 50 کروڑ 20 لاکھ روپے آمدن والی خوشحال خان خٹک کا کنٹریکٹ بھی 15جولائی کو مکمل ہونے پر خود چلانا شروع کر دی تھی،ذرائع کے مطابق فرید ایکسپریس اور ہزارہ ایکسپریس کو آؤٹ سورس کرنے کے لئے پہلے 9اگست اوردوبارہ 7ستمبر کی تاریخ مقرر کی گئی لیکن کسی کمپنی نے ٹرینوں کی نیلامی میں حصہ نہ لیا، ذرائع کے مطابق پرائیویٹ سیکٹر کے ٹرینوں کی نیلامی میں حصہ نہ لینے کی ایک وجہ یہ بھی بتائی گئی ہے کہ سابق کمپنی کے مالک نے شکایت کی کہ ان کی ٹرینوں کو ترجیح نہیں دی جاتی تھی ۔