لاہور(حافظ فیض احمد)ولہار سٹیشن پر ہونے والے المناک ٹرین حادثہ انتظامیہ کی غفلت ،تخریب کاری یا پھر کوئی اور معاملہ؟ ریلوے سکھر ڈویژن ریلوے ٹرینوں کیلئے برمودا ٹرائی اینگل بن گئی ۔ٹرینوں کے بڑھتے ہوئے حادثات پر ریلوے انتظامیہ کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات فائلوں اور کمیٹی روم تک ہی رہ گئے ہیں،سگنل گرین ہونے کے باوجود ٹرین لوپ لائن پر کس طرح چلی گئی، ریلوے انتظامیہ کے ٹیکنیکل سٹاف نے سر پکڑ لیے ،سگنل کی خرابی نے ماضی میں ہونے والے حادثات اور ان کی انکوائری رپورٹوں پر بھی سوالیہ نشان اٹھا دیئے ۔ایک ماہ کے دوران ایک درجن سے زائد ٹرینوں کے پٹریوں سے اترنے کے حادثات رونما ہوچکے ہیں۔ذرائع کے مطابق ولہار ریلوے کے مقام پر انٹر لاکنگ سگنل سسٹم لگایا گیا ہے جس کے تحت اگرٹریک پر ٹرین موجود ہو توپیچھے سے آنے والی ٹرین کو سگنل سرخ ملے گا لیکن گزشتہ روز ٹرین حادثہ کے دوران بعض عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جب ٹرین حادثہ ہوا تو اس وقت سگنل گرین تھا لیکن ٹرین کس طرح لوپ لائن پر چلی گئی، یہ سمجھ سے بالاتر ہے ۔ ریلوے ماہرین کا کہنا ہے کہ ریلے پوائنٹس میں اگر خرابی پیدا ہوجائے تو سگنل سسٹم مکمل طور پر ڈیڈ ہو جاتا ہے جس کے بعد ٹرینوں کو مینول طریقے سے چلایا جاتا ہے جبکہ ایک ریلوے افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ابتدائی طور پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹرین ڈرائیور کو سگنل گرین ملا اور وہ اسی رفتا ر سے ٹرین چلا رہا تھا، ٹرین کی رفتار تیز ہونے پر زیادہ نقصان ہوا۔واضح رہے سکھر ڈویژن میں ماضی میں بھی اسی طرز کا ایک بڑا ٹرین حادثہ ہوا تھا جس میں متعدد افراد جان سے گئے اور درجنوں مسافر زخمی بھی ہوئے تھے جبکہ ریلوے کی تاریخ میں بیک وقت تین ٹرینوں کے آپس میں ٹکرانے کا انوکھا حادثہ بھی اسی ڈویژن میں ہوچکا ہے ۔سکھر ڈویژن میں ٹرینوں کے بڑھتے ہوئے حادثات پر متعدد بار میٹنگ ہوئی اور افسران کو تبدیل بھی کیا گیا لیکن اس کے باوجود ٹرینوں کے حادثات میں کمی نہیں آسکی اور وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کے دور حکومت میں اب تک مال گاڑیوں ،پسنجر ٹرینوں کے پٹریوں سے اترنے ،ان مینڈ لیول کراسنگ،مینڈ لیول کراسنگ ،ٹرینوں میں آگ لگنے اور دیگر 76سے زائد حادثات ہوچکے ہیں اور سب سے زیادہ ٹرینوں کے حادثات رواں سال اپریل ،مئی ،جون اور جولائی کے مہینوں میں رونما ہوئے ، حسب معمول ٹرین ڈرائیور کو حادثے کا ذمہ دار قرار دے کر فائل بند کر دی جاتی ہے ۔