ڈہرکی (اے ایف پی)ڈہرکی میں ٹرینوں کے درمیان تصادم کے بعد علی نواز کا خاندان سب سے پہلے مدد کیلئے پہنچا۔علی نواز جائے حادثہ کے قریب واقع گاؤں کے رہائشی ہیں، انہوں نے بتایا کہ جب تصادم ہوا تو بہت زور دار آواز آئی اور ہم ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے ،بھاگ کر جائے حادثہ پر پہنچے تو لوگ مدد کیلئے چلا رہے تھے ۔ ہم نے بوگیوں پر چڑھ کر مسافروں کو باہر نکالا، شدید زخمیوں کو کار میں ہسپتال لے جایا گیا اور جو کم زخمی تھے انہیں ٹریکٹر ٹرالی پر منتقل کیا گیا۔خاندان کی عورتیں بھی امدادی کارروائیوں میں برابر کی شریک رہیں،انہوں نے بھاگ بھاگ کر زخمیوں کو پانی پلایا۔علی نواز نے مزید بتایاکہ کچھ دیر بعد جو مسافر کم زخمی تھے وہ بھی ہمارا ہاتھ بٹانے لگے ،ہم نے ٹرین کی سیٹوں کو سٹریچر کے طور پر استعمال کیا۔علی نواز کی اہلیہ حبیبہ مائی نے بتایا میں دن رات چولہے پر بیٹھ کر کھانا بناتی رہی، گھر کے مردزخمی مسافروں اور امدادی کارکنوں کو دن بھر کھانا کھلاتے رہے ۔ایک زخمی خاتون اپنے تین چھوٹے بچوں کو لے کر آئی تو میں نے گائے کا دودھ دوہا اور انہیں پلایا۔ خاتون کا چہرہ گرد سے اٹا تھا اور ننگے پاؤں تھی میں نے اس کا چہرہ دھلایا اور اسے اپنا جوتا اتار کر دیا۔ایک افسر، جس نے اپنا نام بتانے سے منع کیا، نے نواز کے خاندان کو 50ہزار روپے انعام بھی دیا۔حبیبہ کے دیور نے منیر احمد نے کہا حبیبہ ایک ہیرو خاتون ہے ۔حبیبہ نے بتایا چولہے پر بیٹھ بیٹھ کر میری انگلیاں جل گئیں، یہ بتاتے ہوئے اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی، ہم سے جو کچھ بھی ممکن ہو سکا ہم نے کیا۔