اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا ہے کہ ریکوڈک کیس میں پاکستان پر 6.2 ارب ڈالرز جرمانے کو عالمی فورم پر چیلنج کر رہے ہیں۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر توانائی عمر ایوب کا کہنا ہے کہ سابق حکومتوں نے آئی پی پیز پر اخراجات کا بوجھ ڈالا۔ شفافیت اولین ترجیح، گردشی قرضوں پر کیپسٹی چارجز واپس لے رہے ہیں۔عمر ایوب نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کو کارکے کیس میں 1.2 ارب ڈالرز جبکہ ریکوڈک کیس میں 6.2 ارب ڈالرز جرمانہ ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی معیشت اتنے بڑے جرمانے ادا کرنا برداشت نہیں کر سکتی۔ جرمانہ ادا نہ کیا تو بیرون ملک اثاثے قرق ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جی آئی ڈی سی کے معاملے میں آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ ملکی مفاد میں کی تھی، تاہم شفافیت کیلئے فیصلہ سپریم کورٹ کرے گی۔ عمر ایوب نے کہا کہ اس وقت ملک میں فیڈرز کا ایفیشنسی ریٹ 99 فیصد ہے ۔ 2019ء بجلی کی ترسیل کا سال ہے ۔ جولائی 2019ء میں ماہانہ سرکلر ڈیٹ 10 ارب روپے سے کم پر لے آئے ہیں۔ دسمبر تک گردشی قرضے کو صفر کر دینگے ۔