اسلام آباد،لاہور (سپیشل رپورٹر، سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک )مسلم لیگ (ن) نے حکومت سے منی بجٹ لانے کی وجوہات سامنے لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ منی بجٹ کی وجہ حکومتی اخراجات میں اضافہ ہے ، 6 ماہ میں ایک ہزار ارب کا خسارہ ہوچکا، کابینہ اجلاس صرف ای سی ایل پرہوناحکومتی اہلیت کا معیار ہے ،سینٹ میں تبدیلی اندر سے ہی آئے گی۔ان خیالات کا اظہار شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل اور مریم اورنگزیب نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔ شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ دوسرا مہینہ ہے ملک میں بجلی، گیس کی لوڈشیڈنگ ہے اور معیشت نیچے جارہی ہے ، میں ملک میں ایل این جی لانے کا ذمہ دار ہوں، جو پوچھنا ہے مجھ سے پوچھیں، ایل این جی نہ لاتے تو ملک میں توانائی کا بحران حل نہ ہوتا۔ حکومت کی کوئی آمدن نہیں ،افراط زر سے حکومتی اخراجات میں اضافہ ہوا،اخراجات کو پورا کرنے کیلئے یہ منی بجٹ میں بوجھ عوام پر ڈال رہے ہیں۔ این آر او کی بحث ختم کریں، این آر او کوئی مانگ سکتا ہے نہ دے سکتا ہے ۔نوازشریف نے این آر او کرنا ہوتا تو جیل نہ جاتے ۔ مفتاح اسماعیل نے کہا سٹیٹ بینک سے 14سوارب قرض لیاگیا، پالیسی ریٹ کی وجہ سے 400 ارب روپے کے اخراجات بڑھے ۔ پہلی بار 23 سال میں لارج سکیل مینو فیکچرنگ میں منفی گروتھ ہوئی، سٹاک ایکسچینج میں 45 ارب ڈالر نقصان ہو چکا ۔ ادھر مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے 2010 کے سیلاب فنڈ کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنانے کامطالبہ کردیا۔کوٹ لکھپت جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا چیف جسٹس اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل علیمہ خان کی بیرون ملک جائیدادوں اور 2010 کے سیلاب فنڈ کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنائیں۔عمران خان کی ایمانداری کا میک اپ اتر چکا۔قوم سے چندے کے نام پر دھوکہ کیا گیا۔ حکومت ہٹلر کے زمانے کی یادیں تازہ کر رہی ہے ۔نواز شریف اور شہباز شریف کو طبی سہولیات دانستہ طور پر نہیں دی جا رہیں جو جیل قوانین اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔ نواز شریف کی صحت کو نقصان ہوا تو ذمہ دار وزیر اعظم،وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ ہوں گے ۔آرمی چیف کو موجودہ حالات دیکھ کرخود میدان میں اترنا پڑا ہے ، وہ خود تاجروں کو حوصلہ دے رہے ہیں۔ ہم دوائیوں کی قیمتوں میں اضافے کی مذمت کرتے ہیں۔