آزاد کشمیر میں مسلم کانفرنس کو چیلنج کرنے کیلئے کوئی مقامی پارٹی میدان میں نہ آسکی۔ جس کی وجہ سے یہ سیاسی خلا پاکستان کی سیاسی جماعتیں نواز شریف کی مسلم لیگ، پاکستان پیپلز پارٹی یعنی پی پی پی اور اب عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف پورا کر رہی ہیں۔ ویسے وادی کشمیر میں اگر کسی واحد پاکستانی سیاستدان کو عوامی پذیرائی ملی ہے، تو وہ بلا شبہ ذولفقار علی بھٹو ہے۔ سرینگر کا بڈشاہ پل کراس کرتے ہوئے ریاستی اسمبلی کے بلمقابل بھٹوکی قد آدم تصویر کئی سال تک نظر آتی تھی۔ وہاں کسی بھٹو میموریل کمیٹی کا دفتر بھی ہوتا تھا۔ شاید بھٹو کی تقریروں نے ان کیلئے کشمیر یوں کے دلوں میں جگہ بنائی تھی۔ پاکستان میں تو بھٹو کی موت پر شاید کسی نے ایسا سوگ نہیں منایا ، جیسا کشمیریوں نے 1979میں منایا۔ مگر اس کے کچھ عرصے کے بعد فوجی آمر ضیا ء الحق بھی کشمیر میں خاصے مقبول ہوگئے۔ ان دو پاکستانی حکمرانوں کے علاوہ کوئی اور پاکستانی سیاسی یا فوجی لیڈر کشمیر میں مقبولیت حاصل نہیں کر سکا ہے، چاہے وہ نواز شریف ہوں یا بے نظیر بھٹو۔ نواز شریف کو بیرون ملک جب بھی موقع ملتا تو میر واعظ عمر فاروق کے ساتھ تصویر کھنچ کر اسکی خوب تشہیر کرواتے تھے، مگر عوامی قبولیت سے وہ دور ہی رہے۔ بے نظیر بھٹو نے اپنے دوسرے دور اقتدار میں جم کر کشمیر کا استعمال کیا، جس کی وجہ سے نئی دہلی نے انکو کبھی معاف نہیں کیا، مگر وہ بھی اپنے والد کے برعکس کشمیر میںجادو نہیں جگا سکیں۔ بطور کرکٹر عمران خان کو مقبولیت حاصل تو تھی۔ اکتوبر 1983میں سرینگر میں بھارت اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ایک روزہ میچ کے دوران اسٹیڈیم میں عمران خان کے قد آدم پوسٹر نمایاں تھے۔ وہ شاید کسی حد تک بھٹو کے بعد سیاسی مقبولیت حاصل کرسکتے تھے، مگر پچھلے تین سالوں کے درمیان کشمیر یا دیگر بین الاقوامی امور پر ان کی کارکردگی تقریروں سے آگے نہ بڑھنے سے ان کے تئیں مایوسی پیدا ہو رہی ہے۔ ٓٓآزاد کشمیر کا موجودہ علاقہ جو 13,297مربع کلومیٹر پر محیط ہے، دراصل وادی کشمیر کے پہاڑی علاقے اور اسکا بیشتر علاقہ جموں خطے کے ایکسٹنشن پر مشتمل ہے۔ اسلئے اس کی سماجی ترتیب بھی وادی کشمیر کے بجائے جموں سے مماثلت رکھتی ہے۔ وادی کشمیر میں زبان و نسل و قبیلہ کے اعتبار سے ماضی کے انگلینڈ کی طرح یکساں قومیت کے لوگ رہتے ہیں۔ بقول چودھری غلام عباس، جنہوں نے ان دو خطوں کی سیاست کا موازنہ کیا ہے، تحریر کرتے ہیں کہ ’’وادی کشمیر میں مسلمانوں کی بھاری اکثریت کی وجہ سے سماجی، سیاسی اور جماعتی زندگی کا تخیل فرقہ وارانہ طور پر تقریباً ناپید ہے۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ اسکے برعکس ’’صوبہ جموں کے مسلمان قبیلوںاور برادریوں کے بندھنوں میں گرفتار ہیں، کہیں سید اور مغل، کہیں جاٹ اور گوجر، کہیں راجپوت، سدھن اور چوہان۔ یعنی ہر قبیلہ دوسرے کے درپے آزار، ایک ضلع کی بولی، وضع قطع، شکل و شباہت ، تہذیب اور معاشرت دوسرے ضلع سے مختلف‘‘چودھری صاحب لکھتے ہیں ’’کہ ایک موقع پر شیخ عبداللہ نے کسی معاملہ میں مجبور ہو کر ان کو کہا کہ اگر میں صوبہ جموں میں ہوتا تو کب کا میدان سیاست سے راہ فرار اختیار کر گیا ہوتا۔‘‘آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی 53 نشستوں پر مشتمل ہے، جن میں سے 45 نشستوں پر براہِ راست انتخابات ہوتے ہیں جبکہ خواتین کیلئے 5، ٹیکنوکریٹ، علماء مشائخ اور بیرونِ ملک کشمیریوں کیلئے ایک ایک نشست مخصوص ہے۔ جن نشستوں پر براہِ راست انتخابات ہوتے ہیں ان میں 12 نشستیں پاکستان میں مقیم ان مہاجرینِ جموں کشمیر کیلئے مختص ہیں جو 1947 اور 1965میں ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے۔ ان میں سے 6 نشستیں صوبہ جموں اور 6 صوبہ کشمیر کے مہاجرین کیلئے مختص ہیں۔ خطے کے معروف صحافی دانش ارشاد کے مطابق مہاجرین کی ان نشستوں کے حوالے سے عوامی اور سیاسی سطح پر شدید تحفظات پائے جاتے ہیں اور انکو جانبدارانہ اور شفاف انتخابات میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا ہے ۔اس کی بنیادی وجہ ان حلقوں میں الیکشن کمیشن اور انتظامیہ کی عملداری کا نہ ہونا ہے۔ پاکستان میں مقیم مہاجرین کے حلقوں میں ووٹرز کی تعداد 4 لاکھ 64 ہزار کے لگ بھگ ہے۔ ان میں سے جموں کے حلقوں میں ووٹروں کی تعداد 4 لاکھ 30 ہزار جبکہ وادی کشمیر کے مہاجرین کے حلقوں میں ووٹروں کی تعداد بس 30 ہزار ہے اور ان کیلئے بھی 6 نشستیں مختص ہیں۔ یہ ووٹر پاکستان کے صوبوں میں رہتے ہیں، جہاں تک کسی بھی امیدوار کیلئے پہنچنا تو ناممکن ہوتا ہی ہے اس کیساتھ وہاں کے انتخابی عمل کے طریقہ کار کا علم بھی نہیں ہوپاتا۔ ان کا آزاد کشمیر کی گورننس کے مسائل سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتاہے۔ان سیٹوں کی وجہ سے پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتیں اور بر سراقتدار سیاسی پارٹیاں مظفر آباد میں حکومت سازی پراثر انداز ہوتی ہیں۔ اسی بنیاد پر ایک عمومی تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ آزاد کشمیر میں اس سیاسی جماعت کی حکومت بنتی ہے جو اسلام آباد میں برسرِ اقتدار ہو۔یہ انتظام اس لئے رکھا گیا تھا تاکہ یہ اسمبلی اور یہ حکومت پوری ریاست جموں و کشمیر میں بسنے والی تمام قومیتوں اور مذاہب کے افراد کی نمائندگی کرسکے۔ مگر مختلف ترامیم کے بعد اس حکومت کی حیثیت محض آزاد کشمیر کے علاقوں میں بسنے والے شہریوں کی نمائندگی تک محدود رہ چکی ہے اور اسکے پاس بلدیاتی طرز کے اختیارات ہیں ۔لہذا موجودہ تقاضوں کے مدنظر وسیع تر سیاسی اصلاحات کی اشد ضروت ہے۔ اس خطے میں مہاجرین کی ایک تیسری قسم بھی ہے، جو دوردراز علاقوں ، خصوصاً لائن آف کنٹرول کے پاس رہنے والوں کی ہے، جنہیں کنٹرول لائن کے دوسری طرف یعنی آزاد کشمیر کی طرف 1990 یا اسکے بعد نقل مکانی کرنے پر مجبور کیا گیا۔ حکومت کے مطابق اس قبیل کے مہاجروں کے تعداد 1292خاندانوں پر مشتمل ہے۔ مگر حکومت آزاد کشمیر کے اعداد و شمار کے مطابق 90ء کے اوائل میں 5986خاندان منتقل ہوگئے تھے، ان کی تعداد اب 8000 سے تجاوز کرچکی ہے۔ اور یہ مختلف ریفیوجی کیمپوں میں مقیم ہیں۔ان میں 75فیصد پہاڑی، 20فیصد گوجراور 5فیصد کشمیر النسل ہیں۔ ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ حتیٰ کہ کشمیر کی کسی بھی سیاسی جماعت چاہے بھارت نواز ہو یا آزادی یا حق خود ارادیت کی خواہاں، کسی کو ابھی تک یہ توفیق نہیں ہوئی ہے، کہ ان بے خانماں افراد کی باز آبادکاری یا اْنہیں اپنے گھروں کو واپس لانے کی سعی کریں یا کم سے کم آواز ہی بلند کریں، جس طرح کشمیری پنڈتوں کیلئے آوازیں بلند ہوتی رہتی ہیں، جن کیلئے حکومت جموںوکشمیر اور حکومت دہلی کی طرف سے خاصی عنایتیں کی گئی ہیں۔اس سویلین آبادی کو شورش شروع ہوتے ہی زمینوں اور گھروں سے بے دخل کر کے فوج نے لائن آف کنٹرول کے اس پار دھکیل دیا تھا۔ یہ2001ء اور 2011 ء کی مردم شماری کی رپورٹوں میں بارہ مولا، کپواڑہ،پونچھ اور راجوری کے کم و بیش 20دیہاتوں کو غیر آباد بستیوں کے طور پر درج کیا گیا ہے۔چند سال قبل لائن آف کنٹرول کے قریبی علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے، مجھے چند ایسے گاوٰں دیکھنے کو ملے، جنہیں ان علاقوں میں تعینات فوجی بھی‘‘ آسیب زدہ گاوٰں ‘‘کے نام سے جانتے ہیں۔لمبی قد آدم گھاس کے درمیان شکستہ مکانات اور غیر آباد کھیت مکینوں کی واپسی کی راہ تک رہے ہیں۔ایک ہو کا عالم طاری ہے۔کپواڑہ کے ایک دوردراز علاقہ کے ایک 70سالہ بزرگ غلام سرور نے مجھے بتایا، کہ 1992ء میں ان کے گائوں ملک بستی میں بھارتی فوج نے ڈیرا ڈالا، اور انہیں 12گھنٹے کے اندر اندر گھروں کو خالی کرنے کیلئے کہا گیا۔ سرور کی ٹانگ میں فریکچر تھا، اس لئے وہ گائوں والوں کا ساتھ نہیں دے سکا۔ عزیز و اقارب نے بھی اْسے تسلی دی، کہ حالات نارمل ہوتے ہی، وہ واپس آئیں گے۔ ان علاقوں میں تین بار مکینوں کو بے دخل کیا گیا۔ 1990ء کے علاوہ 1999 ء میں جنگ کرگل اور2001 ء میں بھارتی پارلیمان پر حملے کے بعد آپریشن پراکرم کے دوران لائن آف کنٹرول کو سیل کرنے کے بہانے بستیوں کو خالی کرایا گیا۔