راستہ درست اختیارکرنا چاہئے تاکہ منزل آسان تر ہو۔ کسی بھی کالم نگار کواپنا فکری اثاثہ خوش نیتی کو بتانا چاہیے۔ حق بات کو پوری طرح سے اپنے خیالات گفتار‘ تحریر میں سمو کر ہی اپنے موضوعات کا تعین کرنا زاد عمل کو اور قوم کے رویوں کو مستحکم کرتا ہے۔ ہر صاحب قلم مقاصد کو نصب العین بنا کر اپنی آرا کو قوم تک پہنچاتا ہے۔ لیکن مقاصد کا تعین بسا اوقات دھڑے بندی کے اثرات اپنی ‘کج فکری کا زعم شدید یا کسی مالی قوت کی فراہمی کے باعث ہوتاہے جو نہایت درجہ مضرہے۔ ہمارے اکثر اہل قلم سیاسی حالات کو اپنے بنیادی اور ذیلی مقاصد قرار دیتے ہیں پاکستان اورعالم اسلام میں خبر نویسی‘ خبر گیری اور خبر افشائی بیرونی مغربی قوتوں کے طے کردہ راہوں پر گامزن رہتی ہے۔ خبر جاننے کے لئے ہم بہرحال یہودی د سیسہ کاری کے نظام سے باہر نہیں آ سکے یہی بنیادیں ہمارے فکری راستوں کا تعین کرتی ہیں۔ ہماری صحافتی کائنات میں مضبوط غیر جانبدار انداز بالکل ہی نہیں ‘اسی لئے طنزو و مزاح کے کالم نگار اپنی تحسین اور تنقیصی صلاحیتوں کوغیر جانبدار رکھنے سے طبعاً قاصر ہوتے ہیں۔ کچھ زبان و بیان کے کثیر النوعی طرز پر واقف ہوتے ہیں ان کی طبعی زوق جماعتی وابستگی اور مالی اسباب کی فراہمی اسی اونچ نیچ کے کھیل میں مصروف رہتی ہے۔ قوم‘ ارکان سلطنت کا رپردازان ریاست اور کارکنان سیاست کو اپنے قومی درد سے معمور خیالات سے اس احسن طریق پر آگاہ کرنا چاہئے جس سے اصلاح اور فلاح کے درست راستے میسر آتے ہیں۔ کسی بھی حکمران یا ان کے مخالفین کے دھڑوں کی علمبرداری از خود ایک ضعیف فکری رویہ ہے۔ اس بارے میں ہر محب وطن کو قومی آفاق اور دینی و اخلاقی اقدار کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ یہ ایک قلمی امانت ہے ہر دور میں حکمران اور ان کی انتظامی جماعت کے ارکان کسی نہ کسی طرح فلاح پروری کے اقدامات کرتے ہیں کئی اقدامات کے اثرات بہت مثبت اور قابل تعریف ہوتے ہیں۔ اور کئی اقدامات بالکل ہی بے ثمر ہوتے ہیں یا نیم ثمر آوری سے حالات کو تنقید اور بے یقینی کے سپرد کر دیتے ہیں۔ بہت مناسب ہوتا ہے کہ مشاورتی گروپس تشکیل دئے جائیں جو اپنی رائے مضبوط پس منظر میں اور پیش منظری حقائق کو سامنے رکھ کر پیش کریں اور پھر حکمران عزم بالجزم کے ساتھ اپنی اقتداری جمہوریوں سے ہٹ کر اس پر عمل پیرا ہو جائیں۔ زمانہ قدیم میں کئی آمر الطبع بادشاہ بھی اپنے ناصحین کو اپنی حکومت کے احوال و کردار میں ان کو خاص اہمیت دیا کرتے تھے۔ اب بھی مشیران کرام کا ایک بڑا طبقہ حکومتی مراعات کی لطف اندوزی میں مست رہتا ہے لیکن عوام کی مشکلات اور ان مشکلات کے حل کے لئے وہ کبھی بھی علمی عملی اور سادہ عوامی سطح پر کسی بھی اچھے اقدام سمجھاتے نظر نہیں آتے۔ وزرا اپنے منصب کو پوری طرح سے سمجھ نہیں پاتے اپنی وزارت کو قوم کی امانت نہیں جانتے بلکہ حکمران اعلیٰ کی دَیاسمجھ کر اس کے قصائدمیں رطب اللسان رہنا ان کے نزدیک عزت و وقار کا تحفظ ہوتا ہے۔ روزانہ اخباری بیانات چینلز پر اپنی جماعت کی بے دلیل حمایت ان کے اس پر تحفظ روپے کی دلیل ہے۔ روزانہ ہر اقدام پر بجا فرمایا اور درست ترین اقدام کے الفاظ کو ضعف کی چھڑی سے ہانکنا لگے بندھے حاشیہ برداروں کا وظیفہ سیاست ہے۔ صحیح مشورہ مشیر نہیں دیتے ‘خزانے پر چڑھے اپنی زندگی کو آسودہ کرتے ہیں۔ وزیر اعظم اور وزرائے ریاست اپنے میڈیا مینجر کی کارکردگی کا لمحہ لمحہ جائزہ لیتے ہیں۔ ہسپتال میں اچانک پہنچ گئے۔ ہسپتال کے عملے سے غضب کا برتائو‘ غصے کا اظہار‘ لیکن کیا ہسپتال ہی تمام اصلاحات کا مرکز ہے۔ ریاست کی ذمہ داری عوام الناس کو صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہے اصلاح صحت کا اقدام دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ قوم کا ہر فرد اپنے فرائض کی ادائیگی کا فطری و اخلاقی طور پر پابند ہوتا ہے۔ اسے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنے اختیارات کا استعمال کرنا ہوتا ہے لیکن سب سے بھاری اور اہم ذمہ داری حکمرانوں کی ہوتی ہے کسی بھی انتظامی تقسیم کی سربراہی عموماً وزراء کے زیر انتظام ہوتی ہے اور وہ تمامتر لائحہ عمل اور اساسی فکر کے ذمہ دار ہوتے ہیں لیکن ہمارے ہاں بدقسمتی کا رواج بہت زور گیر ہے کہ وزراء اپنے محکموں کے عوامی مفادات سے یا تو ناآشنا ہوتے ہیں یا ان کے معمولات کی ترجیحات اپنی وزارت کی نیک نامی کی شہرت کا پروگرام لئے ہوئے ہوتی ہیں۔ صحت اور تعلیم دو بنیادی ترجیحات ہوتی ہیں کسی بھی منتخب حکومت کی۔البتہ عوام اور قوم پر حکمران بننے والوں کے لئے نہایت اہم ذمہ داری یہ عائد ہوتی ہے کہ وہ قوم کی زندگی کے لئے ان دونوں شعبہ جات میں ہر لحاظ سے ترجیحی اور مثبت طور پر زیرکی سے اہتمام کرے۔ ہماری ووٹ دار حکومتیں اپنے اپنے ادوار میںاپنے سربراہ کے بلند قدر اقدامات کی تعمیر غربت مار مبنی برکارڈز پروگراموں کے اعلان کرتی ہیں۔ لیکن وہ بالکل غیر بنیادی ہوتے ہیں۔ نتائج اور اثر کاری کے اعتبار سے بالکل غیر ضروری محسوس ہوتے ہیں۔ ہسپتالوں کے نظام کی بنیادی اصلاح حکمرانوں کا فرض ہے۔ ایک سابق حکمران ہسپتالوں کی عمارتیں بنوانے کے ذاتی شوقین تھے۔ بظاہر تو ملکی تعمیر و ترقی کا غلغلہ تھا۔ لیکن ہسپتال محض عمارت کا نام ہوتا تھا۔ ڈاکٹرز ادویہ اور طبی آلات سے محروم۔ یہ ہسپتال قومی خدمات اور عوامی حقوق کو آج بھی منہ چڑاتے ہیں۔ تمام بیماریوں کی اصل ناقص خوراک اور غلاظت بھرا وہ زہر آلود پانی ہے جس کو عوام اپنی زندگی کی بقا کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ گزشتہ حکومتوں کی ناقص کارکردگی پر باقاعدہ نوحہ خوانی کے لئے ہر دور کے وزراء منظم صف بندی سے موجود ہوتے ہیں لیکن بیماریوں کی اسباب کی اصلاح کے لئے روز حاضر تک نہ کوئی توجہ دیتا ہے اور نہ کوئی اقدام کرتا ہے۔ حکومتیں چل رہی ہیں ہسپتال بن رہے ہیں۔ ڈاکٹرز مراعات کے لئے ہڑتالیں کر رہے ہیں۔ انٹرنیشنل ادویہ ساز کمپنیاں اپنا کالا دھندہ کر رہی ہیں اور عوام سب کے سامنے بے بس زہر آلودہ اور غلاظت زدہ پانی پی کر زندہ باد ‘ مردہ باد‘ آوے ہی آوے۔گو فلاں گو کے نعرے لگا کر زندگی کی ریڑھی کو دھکیل رہے ہیں۔