اسلام آباد(صباح نیوز،این این آئی)سینٹ میں زیادتی کے مجرموں کو سرعام پھانسی پرپارلیمانی جما عتیں تقسیم ہوگئیں، حکومت نے حمایت کر تے ہوئے کہا کہ سرعام پھانسی تفریخ نہیں جرم کیخلاف خوف پیداکریگا۔پیپلزپارٹی نے مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ جرائم کم ہونے کے بجائے اضافہ ہوگا، مسئلہ کاحل سرے عام پھانسی نہیں قانون کی حکمرانی ہے ، ارکان سینٹ نے کہاکہ کہ پولیس کو ہر دور میں سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیاگیا،سی سی پی او کوسزادی جائے معافی نا قابل قبول ہے ۔منگل کو ایوان بالا کااجلاس چیئرمین صداق سنجرانی کی صدارت میں ہوا۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنماسینیٹرپرویز رشید نے کہاکہ ادراوں کا کام عوام کی نمائندگی کرنا ہے اسٹیبلشمنٹ کی نمائندگی کرنے کے دوسرے ادارے موجود ہیں ۔آصف کرمانی نے کہاکہ سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی سائٹس ہیں نوجوان جب اس طرح کے سائٹس رات گئے تک دیکھیں گے تو سانحہ موٹروے کی طرح سانحات ہوں گے ۔سینیٹر شیری رحمان نے کہاکہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے ایسے واقعے کو سیاست کی نذر نہ کیا جائے ، ایسی تجاویز دیں جس سے ان واقعات کا تدارک ہو۔ سی سی پی او کا بیان غیر ذمہ دارانہ تھا ۔ سر عام پھانسی پر پیپلزپارٹی یقین نہیں رکھتی ، سر عام پھانسی سے جرائم کم نہیں ہوتے ۔سینیٹر اورنگزیب اورکزئی کے مطالبہ پر چیئرمین سینٹ نے این ایف سی کا معاملہ کمیٹی بھیج دیا۔تحریک انصاف کے سینیٹر محسن عزیز نے کہاکہ زیادتی کا واقعہ قابل مذمت ہے تاہم سی سی پی او کو کام کرنے دیں۔میاں رضا ربانی نے کہاکہ سرے عام پھانسی سے معاشرہ مزید بگاڑ کی طرف جائے گا ۔بیرسٹر محمد علی سیف نے کہاکہ معاشرے کی اصلاح کیلئے ہم نے کردار ادا نہیں کیا ، پولیس کوسیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا۔مشاہداﷲ خان نے کہاکہ سی سی پی او کو معافی نہیں سزا ہونی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت 12بجے کے بعد حالت بھنگ چرس اور کوکین میں ہوتی ہے ،کسی کی عزت محفوظ نہیں۔اﷲ کی لاٹھی ان کو پڑنے والی ہے اور وہی سی پی او ہو گا اور ان کو جوتے مارے گا۔ مشاہداﷲ اپنی تقریر کے دوران میاں عتیق کی مداخلت پر بھڑک اٹھے اور کہاکہ تو اپنا منہ بند رکھ۔ تویہاں بدمعاش لگا ہے ، یہ بد تمیز آدمی ہے ، چیئرمین صاحب اسکو پٹہ ڈالیں۔ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ پاکستان میں کوئی انسانی حقوق نہیں۔پیپلز پارٹی کی سینیٹر سسی پلیجو نے وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا کی غیر حاضری پرشدید احتجاج کیا جبکہ کالاباغ ڈیم سے متعلق سوال کے حکومتی جواب پربھی اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کیا۔اجلاس میں بابر اعوان نے کوآپریٹوسوسائٹز ایکٹ1965ء میں مزید ترمیم کا بل پیش کیا جو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا جبکہ ترمیمی بل پر رپورٹ (آج) بدھ کو ایوان میں پیش کی جائیگی۔سینٹ میں کراچی میں عمارت گرنے ،وزیرستان میں پاک فوج کے شہید جوانوں ، سانحہ مہمند میں جاں بحق افراد کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔