پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ترجمان کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کو گزشتہ روز آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر کے دورہ کے دوران 8گھنٹے کی طویل بریفنگ دی گئی۔ پاک فوج کے خفیہ ادارے کا مقصد بھی وہی ہے جو دنیا بھر میں موجوددیگر ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کا ہے۔مگر بدقسمتی سے دہائیوں سے قومی سلامتی کا ضامن یہ ادارہ ملک دشمنوں کے ساتھ ساتھ بدعنوان سیاستدانوں کی تنقید کی زد میں بھی ہے۔ یہاں تک کہ ماضی میں ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان ہونے والے معاہدے میں ایک شق فوج کے اداروں کی سیاست میں مداخلت بند کرنا بھی تھی یہ ہمارے سابق حکمرانوں کی آئی ایس آئی سے مخاصمت کا ہی شاخسانہ تھا کہ پیپلز پارٹی کے دور اقتدار میں میمو گیٹ کا معاملہ سامنے آیا تو مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں وفاقی وزراء اپنے ہی خفیہ اداروں کے خلاف سازشوں میں ملوث ہونے کی پاداش میں برطرف کئے گئے۔پاکستان کی اس ایجنسی نے نہ صرف عالمی سطح پر ملک دشمن منصوبوں کو ناکام بنایا ہے بلکہ جب مسلم لیگ کی حکومت اسلام آباد دھرنا کے باعث مفلوج ہو کر رہ گئی تو حکومت کی درخواست پر یہی تنظیم حکومت کو بحران سے نکالنے کے لیے آگے بڑھی تھی۔ جس کا صلہ ایک معزز ادارے کی جانب سے الزام تراشیوں کی صورت میں دیا گیا۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو وزیر اعظم عمران خاں کا آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر کا دورہ نہایت سیر حاصل تھا اس سے پہلے وزیر اعظم نے آرمی ہیڈ کوارٹر کا طویل ترین دورہ کیا تھا اور یوم شہدا پر عسکری اور سول قیادت کے ایک صفحہ بلکہ ایک لائن پر ہونے کی بات کی تھی اب آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر کے دورہ پر وزیر اعظم نے آئی ایس آئی کو ملک کی پہلی دفاعی لائن اور دنیا کی بہترین خفیہ ایجنسی قرار دیا ہے جو ملک کی ترقی استحکام کے لیے نیک شگون ہے۔