کراچی(کامرس رپورٹر)پاکستان ہوٹل ایسوسی ایشن نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے) کی جانب سے بڑے ہوٹلز کو قرنطینہ سینٹرز میں تبدیل کرنے کی تجویز پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے شہر سے دور اور خالی عمارتوں میں قرنطینہ سینٹرز کے قیام اور ریلیف پیکیج فراہم کرنے کی تجویز پیش کردی ہے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان ہوٹل ایسوسی ایشن کے چیئرمین زبیر باویجہ نے اس ضمن میں گورنر سندھ اور دیگر متعلقہ اداروں کے نام ایک مکتوب ارسال کردیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بڑے ہوٹلز اپنے محل وقوع اور خاص ڈیزائن کے باعث قرنطینہ سینٹرز کے طور پر کام کرنے کیلئے بالکل مناسب نہیں ہیں اور نہ ہی ہوٹلز میں کام کرنیوالا عملہ اس حوالے سے تربیت یافتہ ہے ،مکتوب میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر کے تین اور چار ستارہ ہوٹلز میں پہلے ہی90فیصد سے زائد کمرے خالی پڑے ہیں اور ہوٹلوں کی آمدن بری طرح متاثر ہورہی ہے جبکہ ہوٹل انتظامیہ کے پاس ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے بھی رقم دستیاب نہیں،مکتوب میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر بڑے ہوٹلز کو قرنطینہ سینٹرز میں تبدیل کیا گیا تو صورتحال بہتر ہونے کے بعد یہاں ملکی و غیر ملکی سیاح قیام سے گریز کرسکتے ہیں جس کے باعث مستقبل میں بھی ایک طویل عرصے تک ان ہوٹلز کے بزنس متاثر رہنے کا خدشہ ہے ۔