لاہور (نامہ نگارخصوصی) لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سابق صوبائی وزیرسبطین خان کی درخواست ضمانت پر نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔سبطین خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا نیب نے پنجاب منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن میں کرپشن کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا،نیب کے الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں،بطور صوبائی وزیر معدنیات (باقی صفحہ5 نمبر20) قانون پر مکمل عملدرآمد کیا،سبطین خان کی درخواست ضمانت منظور کرکے رہائی کا حکم دیا جائے ۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے صاف پانی کمپنی کے سابق چیف ڈیزائن انجنیئر تحسین اور اورسابق کنٹریکٹ انجنیئر مسرور احمد کی درخواست ضمانت پر کارروائی 22 جولائی تک ملتوی کر دی ۔ملزمان نے موقف اپنایاکسی قسم کی کرپشن نہیں کی مگر کرپشن ریفرنس میں نامزد کر دیا گیا،نیب کے پاس درخواست گزاروں کے خلاف کوئی ثبوت نہیں،درخواست ضمانت منظور کی جائے ۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے نشاط چونیاں پاور لمیٹڈ، نیپرا اور سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کے خلاف انکوائری کی درخواست پر نیب سے 23 ستمبر تک جواب طلب کر لیا۔