وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں آصف علی زرداری کے بطور صدر اور میاں نواز شریف کے بطور وزیر اعظم غیر ملکی دوروں کے اخراجات پر بریفنگ دی گئی۔ اس بریفنگ میں بعض معاملات عوامی خزانے کے بے رحمی سے استعمال کی مثال بن کر سامنے آئے ہیں۔ آصف علی زرداری نے پانچ برس کے دور صدارت میں 134غیر ملکی دورے کئے جن پر ایک ارب 42کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ متحدہ عرب امارات کے 51دوروں میں سے 48نجی تھے مگر ان کا خرچ عوامی خزانے سے کیا گیا۔ میاں نواز شریف نے لگ بھگ چار سالہ اقتدار میں 92غیر ملکی دورے کئے جن پر ایک ارب 84کروڑ خرچ ہوئے۔ وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ سابق حکمرانوں سے قومی خزانے کے بیجا استعمال پر پائی پائی کا حساب لیا جائے گا۔ ریاست کے وسائل ‘ آمدن اور مسائل کو پیش نظر رکھ کر طے کیا جاتا ہے کہ حکمران کس طرح کا طرز زندگی اختیار کریں گے۔ تاریخ بعض نادر مثالیں بھی پیش کرتی ہے۔ خلفائے راشدین نے اپنی تنخواہ اور مراعات کو ریاست کے عام شہری کی مالی ضروریات کے برابر رکھا۔ مسلمان حکمرانوں کو قیصر وکسریٰ کی طرح عالیشان دربار بنانے سے منع کیا گیا۔ مسلمان حکمرانوں کا سادہ طرز زندگی ایران‘ روم اور دیگر علاقوں کے لوگوں کے لئے حیرت کا باعث اور خوشگوار چیز تھا۔ آج یورپ میں مالی خزانوں کی بہتات ہے۔ مگر وہاں حکمران سادہ مکان میں رہتے ہیں۔ سکیورٹی کے سوا ان کے سفری قافلوں میں پروٹوکول کے نام پر درجنوں گاڑیاں نہیں ہوتیں اور غیر ملکی دوروں میں ان کے ہمراہ شاید ہی کوئی عزیز رشتہ دار یا غیر ضروری فرد جاتا ہو۔ پاکستان کے عوام کو اچھے حکمرانوں کا انتظار رہاہے۔ پاکستان ایک غریب ملک ہے۔ ہماری معیشت بیرونی ممالک میں محنت کرنے والے پاکستانیوں کی ترسیلات۔20ارب ڈالر کی برآمدات اور قرضوں کے ذریعے کام کر رہی ہے۔ ملک کو ہر سال 10ارب ڈالر کے قریب غیر ملکی قرض میں ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔ تجارتی خسارہ سالانہ دس ارب ڈالر سے بڑھ چکا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے اس معاملے پر فوری توجہ دی درآمدات کو کنٹرول کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں جاری سال میں 6ارب ڈالر کی درآمدات کم ہوئیں۔ یعنی حکومت تجارتی خسارے میں 6ارب ڈالر کمی لانے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ حالیہ بجٹ میں حکومت کے وزراء اور دیگر عہدیدار نے اپنی مراعات میں کمی کا رضا کارانہ فیصلہ کیا۔ افواج پاکستان نے سرحدوں پر کشیدہ حالات کے باوجود اپنے بجٹ میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ سب اقدامات اس امر کی علامت ہیں کہ پاکستان کی موجودہ سیاسی و عسکری قیادت کفایت شعاری سے کام کر رہی ہے۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ پاکستان کے عوام کو جس جمہوریت سے محبت ہے وہ ہماری سیاسی جماعتوں کے شوکیس میں موجود ہی نہیں۔جمہوریت عوام کا حق حکمرانی ہے۔ یہاں عوام کا نام لے کر چند خاندان سیاسی نظام کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔ جماعت کا سربراہ انتقال سے پہلے عہدہ نہیں چھوڑتا‘ وفات کے بعد اس کا بیٹا یا بیٹی ہی جانشین ہوں گے۔ بانیان پاکستان نے کبھی ایسا نہیں چاہا تھا۔ ہمیں جمہوریت کے نام پر دھوکہ ملا ہے۔ بلا شبہ جمہوریت حکمرانوں کو عوام کے سامنے جوابدہ بناتی ہے۔ جمہوریت نظام کو شفاف اور منصفانہ بناتی ہے۔ جمہوریت صرف اظہار رائے کی آزادی کی ضمانت نہیں دیتی یہ حکمران کو صادق و امین ہونے کا بھی کہتی ہے۔ خاندانی سیاسی جماعتوں نے عوام کے جمہوری خواب کو چکنا چور کیا ہے۔ ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے عوام جمہوریت سے بیزار ہونے لگے ہیں۔ یہ تاثر توانا ہو چکا ہے کہ جمہوریت سرکاری خزانے کی لوٹ مار کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت سابق ادوار حکومت میں سرکاری خزانے سے غیر ملکی دوروں کے اخراجات کا جائزہ لینا چاہتی ہے تو یہ ایک مثبت عمل کی شکل میں ہونا چاہیے۔ حکومت کے پاس ایسے ذرائع ہوتے ہیں جن کی مدد سے وہ ماضی کے حقائق کی پڑتال کر سکتی ہے۔ آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے غیر ملکی دوروں کے دوران کون کون ان کا ہمسفر ہوتا تھا اور ایسے ہمسفروں کی افادیت کیا تھی۔ کیا رہائش کے لئے حاصل کئے گئے ہوٹل کو مارکیٹ نرخوں کے مطابق کرایہ ادا کیا گیا یا مارکیٹ سے زیادہ ادائیگی ہوئی؟ شاپنگ یا دیگر اخراجات کی مد کیا تھی اور کتنا خرچ ہوا۔ اس پر بات ہو سکتی ہے تاہم ٹپ یا چھوٹے موٹے معاملات کو بدعنوانی سے نہیں جوڑنا چاہیے۔ وزیر اعظم یا صدر مملکت کو پاکستان کی معاشی مشکلات کے باعث ملک اور بیرون ملک سادگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر بھی کچھ معاملات پر اعتراض غیر ضروری معلوم ہوگا۔ سابق حکمرانوں کے غیر ملکی دوروں کی سب سے قابل اعتراض بات ان کا ذاتی کاموں کے لئے سرکاری وسائل پر سفر کرنا ہے۔2008ء سے 2018ء تک پیپلز پارٹی کے ایک ماہ میں کئی اجلاس متحدہ امارات میں ہوا کرتے تھے۔ بلکہ سندھ کابینہ کے اجلاس بھی دوبئی میں بلائے جاتے رہے جس کا خرچ عوامی خزانے سے ہوا۔یہی الزام میاں نواز شریف پر ہے کہ وہ بار بار برطانیہ کا سفر اپنے بچوں کو ملنے کے لئے سرکاری خرچ پر کرتے رہے۔ حکومت اس معاملے کو سیاسی ہیجان پیدا کرنے کی بجائے بہتر انداز میں طے کرے۔ ثبوت کے ساتھ تحقیقات کی جائیں اور پھر سربراہ مملکت اور سربراہ حکومت کو موجودہ آئینی اختیارات اور مراعات کا جائزہ لینے کے بعد اضافی اخراجات کا بل بھیجا جا سکتا ہے۔ تحائف کے سلسلے میں بھی اس قاعدے کو اختیار کیا جا سکتاہے۔