لاہور ( رانامحمدعظیم) سابق دور حکومت کی شاہ خرچیوں ، سیاسی نوازشات، غیر منافع بخش منصوبوں اور قطر سے مہنگی ایل این جی کی وجہ سے پنجاب سب سے مقروض صوبہ بن گیا ۔ پانچ سو ارب کے لگ بھگ پنجاب حکومت مقروض ہے ۔بھاری قرضوں اور نقصان دہ منصوبوں کی بنا پر موجودہ حکومت کے مالی بحران کے شکار ہونے کا خدشہ پید ا ہوگیا، آئندہ آنے والے کم از کم تین بجٹ کا فنڈ بھی سابقہ حکومت استعمال کر چکی ہے ۔ سابق حکومت کے وفادار بیورو کریٹس نے بھی نئی حکومت کی مدد کرنے کے بجائے مزید الجھا کر رکھ دیا ہے ۔ ہر دوسرے منصوبے میں تخمینہ سے زیادہ لاگت، مہنگی ترین خریداری نے بڑھتے ہوئے قرضوں کے حجم میں اہم کردار ادا کیا ۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق یہ بھی ایک خوفناک انکشاف ہوا ہے کہ قطر سے معاہدے کے تحت حاصل کی جانے والی ایل این جی گیس کی ادائیگیاں تقریبا بیس ارب ماہانہ کی جا رہی ہیں جبکہ لی جانے والی ایل این جی نہ ہونے کے برابر استعمال میں آ رہی ہے ۔ با وثوق ذرائع نے بتایا کہ یہ ایل این جی باقاعدہ ایک پلاننگ کے تحت کم استعمال کی جا رہی ہے اور قر ض زیادہ ہونے میں اس کا بھی اہم کردار ہے ایک اہم ترین ذمہ دار کے مطابق قطر سے لی گئی ایل این جی کی رقوم کی ادائیگیوں کے حوالے سے ہر تین روز بعد 110 سے 115 کروڑ کی رقم کی ادائیگی کی سمری پر دستخط کیے جاتے ہیں اور جتنی ایل این جی آ رہی ہے اس کا اس طرح استعمال نہیں ہو رہا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس خسارے سے باہر نکلنے کیلئے اس ایل این جی کے استعمال کے لیئے نئی پالیسی بنانے پر کام شروع کر دیا ، اربوں روپے کی اس گیس کو اس انڈسٹری کیلئے استعمال میں لایا جائے گا جو گیس نہ ملنے کی وجہ سے بند ہو چکی ہے ۔مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ مقروض ترین حکومت پنجاب کے حوالے سے یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ سابقہ دور میں کتنے قرضے ایسے لئے گئے جس میں فائدہ کچھ طاقتور لوگوں کو ہوا اور نقصان عوام برداشت کر رہی ہے ۔صوبائی وزیر صنعت و تجارت و کامرس میاں اسلم اقبال نے 92 نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ واقعی سابقہ حکومت بے انتہا مقروض کر چکی ہے اور اب ہم اس مشکل سے نکلنے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں اور جلد ایل این جی کو بھی اصل اس کے استعمال میں لا کر بند صنعتوں کو اس کی سپلائی دیکر چلائیں گے اس سے صنعتیں بھی چلیں گی اور قرضوں کا بوجھ بھی کم ہو گا ۔