لاہور(سلیمان چودھری ) سابق پنجاب حکومت کی صحت کے شعبے میں ناکام پالیسیوں کے باعث خواتین کی صحت کے لیے بنایا گیا ایک اور منصوبہ ناکامی سے دوچار ہو گیا ۔ لاہور سمیت نزدیکی اضلاع کی خواتین میں بڑھتے ہوئے بریسٹ کینسر کی بروقت تشخیص کے لیے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی سے منسلک لیڈی ایچی سن ہسپتال میں 9کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ہونے والاتشخیصی سنٹر مکمل خدمات فراہم کرنے سے قاصر ہے ۔زیادہ تر مشینری زیر استعمال ہی نہیں ہے ۔ مہنگی مشینری جس میں میمو گرافی ، ایکسرے مشین سنٹر میں غیر فعال پڑی ہیں جس کی وجہ سے خواتین میں بریسٹ کینسر کی بروقت تشخیص کا عمل تعطل کا شکار ہو گیا ہے جو کہ پنجاب حکومت کی کارکردگی کا منہ بولتاثبوت ہے ۔ پاکستان دنیا بھر میں ان ممالک میں شامل ہے جہاں پر چھاتی کا کینسر تیزی سے پھیل رہا ۔ ملک میں ایسے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے کوئی رجسٹری تو موجود نہیں لیکن اندازوں کے مطابق 90ہزار سے 1لاکھ خواتین اس مرض کا شکار ہر سال ہو رہی ہیں اور 40ہزار خواتین اس مرض کا شکار ہو کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ان میں نصب کی تعداد پنجاب سے تعلق رکھتی ہے ۔اسی چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی حالیہ صوبائی حکومت نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیوسٹی کے ساتھ منسلک لیڈی ایچی سن ہسپتال میں ایک بریسٹ سکریننگ سنٹر قائم کیا جس کی تعمیراو رمشینری کی لاگت 9(باقی صفحہ11نمبر3) کروڑ روپے ہے ۔حکومت کی جانب سے اس سنٹر کی حوالے سے ایک رپورٹ تیار کی گئی جس میں انکشاف ہوا ہے کہ اس سنٹر کے لیے خریدی گئی بریسٹ کینسر کی تشیخص کی بڑی ڈیجیٹل میمو گرافی مشین خراب ہو گئی جس کے بارے میں انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کو کمپنی سے ٹھیک کروایا جا رہا ہے ۔ایکسرے مشین تو خرید لی لیکن اس کو ہسپتال کی انتظامیہ نے ابھی تک فعال ہی نہیں کیا ۔سنٹر پر لگائے گئے صوفہ سیٹ کو استعمال میں نہیں لایا جا رہا ۔ چار ٹن کے ائیر کنڈیشن سسٹم کو بھی تک انسٹال نہیں کیا گیا ۔ منصوبہ ناکام