لاہور،کراچی (اپنے نیوز رپورٹر سے ،سٹاف رپورٹر ) احتساب عدالت نے سابق ڈی جی نیپرا سید انصا ف احمد کا جسمانی ریمانڈ دیدیا ۔سستی گاڑیوں کے فراڈ کے ریفرنس میں شفیق حالی اور اعظم کے ریمانڈ میں توسیع کردی گئی جبکہ منی لانڈرنگ ریفرنس میں آفتاب احمد کو جیل بھیج دیا گیا ،عدالت نے ریلویز سگنل سکینڈل میں 5ملزموں کے ریمانڈ کی استدعا مسترد کردی۔لاہور سے اپنے نیوزرپورٹر سے کے مطابق نیب نے 8 ارب کی مبینہ کرپشن کے الزام میں ملوث ملزم سابق ڈی جی نیپرا سید انصاف احمد کو 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر تحویل میں لے لیا ۔احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے ملزم کو دوبارہ 25 جون کو پیش کرنے کا حکم دیدیا ۔دریں اثنا احتساب عدالت نے سستی گاڑیوں کے نام پر ساڑھے تین کروڑ روپے کے فراڈ ریفرنس میں حالی موٹرز سکینڈل کیس کے مرکزی ملزم محمد شفیق حالی اور محمد اعظم کے 7روزہ جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کردی۔مزید براں احتساب عدالت نے حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے لئے منی لانڈرنگ ریفرنس میں ملزم آفتاب محمود کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی۔احتساب عدالت کے جج محمد وسیم اختر نے پاکستان ریلوے میں 55 کروڑ مالیت کے سگنل سسٹم کے منصوبہ میں کرپشن سکینڈل میں 5 ملزمان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی،گرفتار ملزمان میں پراجیکٹ ڈائریکٹر فہیم انور شاہ ،سابق چیف سگنل انجینئر ملزم عطائاﷲ، سابق چیف فنانشل افسر ڈاکٹر محمد سعید،ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر محمد احمد اور پرائیویٹ فرم کے مالک ڈاکٹر معاز محی الدین بھی شامل ہیں ۔دریں اثنا کراچی سے سٹاف رپورٹر کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے آغا سراج درانی کے بھائی آغا مسیح الدین فرنٹ مین گلزار احمد اور دیگر ملزموں کی ضمانت میں 27 جون تک توسیع کردی جبکہ رحمت اﷲ لاشاری کا نام نیب تحقیقات سے نکالنے کی ہدایت کردی۔