لاہور (اپنے نیوز رپورٹر سے ) سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کی سماعت کے دوران پولیس ملزمان کے وکیل ناظم اعوان نے گواہ محسن رسول کو انسداد دہشتگردی عدالت میں تھپڑ مار دیا۔ملزمان کے وکیل نے محسن رسول کو سانحہ کے چشم دید گواہ افتخار پر جرح کے دوران تھپڑ ماراجس کے بعدمتاثرین اور ان کے وکلا نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا ،عدالت کے جج نے اس موقع پر وکیل کو کہا کہ عدالت کے ڈیکورم کا خیال رکھا جائے ، آئندہ ایسا واقعہ نہیں ہونا چاہئے ۔ جواد حامد نے کہاچیف جسٹس ثاقب نثار نے وعدہ کیا تھا کہ ہمیں انصاف ملے گالیکن یہاں تو ہمیں تھپڑ مارے جا رہے ہیں،پولیس ملزمان کے وکیل کے ساتھ ایسے لوگ بھی عدالت آتے ہیں جو کیس میں وکیل نہیں،جارحانہ رویوں اور دھمکیوں سے متعلق متعدد بار جج کو آگاہ کر چکے ہیں۔ پاکستان عوامی تحریک لائرز موومنٹ کے رہنماؤں نے محسن رسول کو ملزمان کے وکیل کی طرف سے تھپڑ مارنے کے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا وکیل ناظم اعوان کے خلاف لاہور بار کی ڈسپلنری کمیٹی اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو کارروائی کیلئے لکھا جائیگا۔صدر عوامی لائرز موومنٹ لہراسب گوندل، نعیم الدین چودھری ایڈووکیٹ، اشتیاق چودھری ایڈووکیٹ و دیگر نے کہایہ کسی وکیل کے شایان شان نہیں کہ وہ عدالت کے احترام کو پس پشت ڈالے ، تھپڑ مارنے کا واقعہ ناقابل برداشت اور قابل گرفت ہے ، ایسے وکلائکو پریکٹس کرنے اور عدالتوں میں پیش ہونے کا کوئی حق نہیں ہے جو قانون کوہاتھ میں لیتے ہیں،اس وکیل کا لائنس معطل ہونا چاہئے ، پولیس ملزمان کے وکلا کے ہمراہ کچھ ایسے لوگ بھی کالے کوٹ پہن کر آجاتے ہیں جو کیس میں کسی کے وکیل نہیں ، یہ وکلادوران سماعت سانحہ کے چشم دید گواہان کے ساتھ ’’لوزٹاک ‘‘کرتے اور کارروائی میں خلل ڈالتے ہیں،واقعہ کے حوالے سے تحریری درخواست اے ٹی سی جج کو دے دی، امید ہے قانون کے مطابق کارروائی ہو گی۔