امریکی وزیر خارجہ پومپیو کی دھمکی کام کر گئی ہے اور افغان حکومت نے100طالبان قیدیوں کو رہا کر دیا ہے تاہم ان میں کوئی اہم کمانڈر شامل نہیں ہے۔ 100طالبان قیدیوں کی رہائی بظاہر اچھا اقدام ہے اور افغانستان کی سلامتی کونسل کے ترجمان نے اسے بحالی امن کی کوششوں کا حصہ قرار دیا ہے لیکن افغان طالبان نے ان 100قیدیوں سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا ہے جس سے مترشح ہوتا ہے کہ افغان حکومت دوحہ امن معاہدے کے مطابق عمل نہیں کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کو یہ دھمکی آمیز بیان دینا پڑا کہ افغان صدور اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ باہمی اختلافات ختم کر کے طالبان سے معاہدہ کریں ورنہ صدر ٹرمپ افغانستان سے امریکی فوجیوں سے مکمل انخلاکا حکم دے سکتے ہیں۔ موجودہ صورت حال کا تقاضاہے کہ افغان حکومت دوحہ معاہدہ کی روشنی اور طالبان کی شرائط کے ساتھ امن عمل کو آگے بڑھائے اور جن طالبان قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ کیا گیا ہے انہیں طے شدہ طریقہ کار اور طالبان کی طرف سے دی گئی فہرست کے مطابق رہا کرے۔ بین الافغان مذاکرات کی کامیابی کیلئے بھی یہ ضروری ہے کہ افغان حکومت مذاکرات شروع کرنے سے پہلے ان 15 کمانڈرز کو رہا دے جن کا مطالبہ طالبان کر رہے ہیں تاکہ اٹھارہ برس سے خانہ جنگی کے شکار افغانستان میں امن قائم ہو اور افغان عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔