اسلام آباد(سہیل اقبال بھٹی) براڈشیٹ اور انٹر نیشنل ایسٹ ریکوری سکینڈل کی تحقیقات کیلئے قائم کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) شیخ عظمت سعید نے بغیر خدمات سرانجام دینے سے معذوری کا اظہار کردیا ہے ، جس پر وفاقی حکومت نے انہیں سپریم کورٹ کے جج کی تنخواہ اور مراعات کے برابر معاوضہ دینے کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے ۔ شیخ عظمت سعید کو ماہانہ 15 لاکھ روپے معاوضہ ملنے کا امکان ہے ۔ کابینہ ڈویژن نے وزیراعظم کی رضامندی حاصل کرنے کے بعد سمری وفاقی کابینہ کو ارسال کردی ہے ۔روزنامہ92نیوزکو موصول دستاویز کے مطابق جسٹس(ر) شیخ عظمت سعید ،جو براڈ شیٹ ایوارڈ اور دیگربین الاقوامی کیسز کی انکوائری کے کمیشن کے چیئرمین کے طور تعیناتی کے زمرے میں تنخواہ اور مراعات لینے کی اجازت ہوگی،مزید براں یہ تنخواہ و مراعات انکی ریٹائرمنٹ سے قبل ملنے والی تنخواہ و مراعات کے برابر ہو نگی۔شیخ عظمت سعید کی نئی تنخواہ کیلئے قانون و انصاف ڈویژن کو سفارش بھیج دی گئی ہے ۔ اس سے قبل کمیشن حاضر سروس آفیسرز پر مشتمل رہے ہیں ۔ لہذا تنخواہ و مراعات کے مسائل نہ تھے ، تاہم شیخ عظمت سعید ریٹائرڈ ملازم تھے تو انکو تنخواہ مراعات کی فراہمی مسئلہ تھا جس کے لئے سفارش کی گئی۔پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ کے سیکشن 12 کے مطابق کمیشن کا ہر ممبر سرکاری ملازم تصور ہوگا۔ تاہم ایکٹ میں ان ملازمین کی مراعات یا تنخواہ کا کوئی ذکر ہے نہ ہی ان معاملات کو طے کرنے کے لیے کسی مجاز اتھارٹی کا ۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے کو کنٹریکٹ پر بھرتی اور اعلی عدلیہ کے ریٹارئرڈ ججز کی سول اسامیوں پر دوبارہ تعیناتی کے حوالے سے قواعد طے کیے ہیں۔سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ ججز حال ہی میں وفاقی ٹیکس محتسب او ر وفاقی محتسب میں تعیناتی کے بعد تنخواہ و مراعات لے رہے ہیں جو کہ انکی ریٹائرمنٹ سے قبل ملنے والی تنخواہ و مراعات کے برابر ہیں۔اس کمیشن کو براڈ شیٹ کمپنی کو تحریک انصاف کے دور حکومت میں27.8 ملین ڈالر کی ادائیگیوں اور ماضی میں غلط کمپنی کو 15ملین ڈالر کی ادائیگی کے معاملے کی تحقیقات، عالمی ثالثی ادارے میں کیس کی پیروی، وکلا کی خدمات اور ادائیگیاں، شریف خاندان اور آصف زردرای کے اثاثوں کا سراغ اور تحقیقات کی بندش، نیب کے دو سابق چیئرمینوں کا معاہدہ کرنے اور معاہدہ ختم کرنے میں کردار اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کی تحقیقات کرنے کی ذمہ داری تفویض کی گئی تھی۔