رواں مالی سال 2023-24ء میں درآمدات میں کمی کے باعث فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو 800ارب روپے سے زائد کے ریونیو شارٹ فال کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔تاہم بتایا جاتا ہے کہ ایف بی آر نے رواں مالی سال کے ٹیکس اہداف کے حصول کے لئے حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ اس میں شبہ نہیں درآمدی شعبہ ٹیکس نیٹ میں اضافے کابڑا ذریعہ ہے ۔اس وقت یہ شعبہ شدید دبائو کا شکار ہے اور درآمدات میں کمی کا رجحان بدستور جاری ہے۔ روپے کی قدر میں کمی اور ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافے نے بھی ملک میں درآمدات کو متاثر کیا ہے۔ رواں سال ٹیکس وصولیوں کے ہدف میں درآمدات کے نمو کا تخمینہ 32فیصد لگایا گیا تھا لیکن درآمدی شرح افزائش میں کمی کی وجہ سے ریونیو کی مد میں 20فیصد کا خسارہ ہوا اور درآمدات میں کمی کے باعث رواں مالی سال میں ٹیکس کے حصول کا ایک بڑا ہدف پورا ہونا ناممکن ہو رہا ہے۔ اگر درآمدات کی مد میں دبائو کا رجحان برقرار رہا تو متبادل ذرائع سے ہدف کا حصول نا صرف مشکل ہو جائے گا بلکہ اس سے ملکی معیشت بھی متاثر ہوگی۔ آٹھ سو ارب روپے کا ریونیو معمولی نہیں۔ریونیو میں کمی پر فوری طور پر قابو پانے کے لئے ضروری ہے کہ درآمدی شعبہ پر غیر ضروری قدغن ختم کیا جائے،ود ہولڈنگ ٹیکس کی سخت مانیٹرنگ، ٹیکس چوری کے کیسوں میں ریکوری اور سیلز ٹیکس میں چوری روکنے کے اقدامات کے علاوہ چوری شدہ ٹیکس واجبات کی وصولیوں کو یقینی بنایا جائے۔