افغانستان سے دہشت گردوں کی پاکستانی چوکی پر فائرنگ کے نتیجے میں لانس نائیک سمیع اللہ شہید ہو گئے۔ پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کا متمنی رہا ہے۔ مگر افغان سرزمین ہمیشہ سے پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی رہی ہے۔ افسوسناک امر تو یہ ہے کہ افغان حکومت اپنی کمزوریوں اور افغانستان میں حکومتی رٹ بحال کرنے میں ناکامی کا الزام بھی پاکستان پر دھرتی رہی ہے۔ افغان حکومت کے پاکستان کے سرحدی علاقوں سے دہشت گردی کی شکایات کے بعد پاک فوج نے نہ صرف قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشن کیا بلکہ سرحد کے آر پار غیر قانونی سرگرمیوں کے انسداد کے لئے 28 سو کلو میٹر پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا کام بھی جاری رکھے ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ امن کے دشمن باڑ کے کام میں خلل ڈالنے کے لئے پاکستانی چوکیوں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔ گزشتہ برس متعدد پار سرحد پار سے پاک فوج پر حملے کیے گئے پاکستان بار بار افغان حکومت سے اپنے علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کر چکا ہے۔ پاکستان نے بیمار افغان فوجی کا علاج کیا لیکن جواب میں افغانستان نے پاکستان کا ایک جوان شہید کر دیا۔ بہتر ہو گا حکومت افغان حکام کو مشترکہ سرحد ی نگرانی پر آمادہ کرے تاکہ امن دشمنوں کو بروقت جواب دے کر سرحد کے دونوں اطراف امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔