لاہور(گوہر علی)سرکاری منصوبوں کے زیر التوا ہونے اور ان میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لئے قائم کردہ پارلیمانی کمیٹی نے اپنی ترجیحات طے کرلی ہیں جبکہ تحقیقات کا دائرہ کار بھی مزید وسیع کر دیا ہے کمیٹی نے پہلے مرحلہ میں ہاؤسنگ ،کمیونیکیشن اینڈ ورکس، سپیشلائزڈہیلتھ،ہائر ایجوکیشن کے محکموں سے متعلقہ منصوبوں کی تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، کمیٹی نے پنجاب اسمبلی کی نئی عمارت ،سرجیکل ٹاور،جہلم سے مری پانی پہنچانے اور مختلف تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی تعمیر کی تاخیر کا بھی نوٹس لے لیا ہے ،ذرائع کے مطابق کمیٹی نے متعلقہ سرکاری افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ آئندہ اجلاس میں ان منصوبوں کی تاخیر کے اسباب و عوامل کے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کریں اور ان کے ذمہ داروں کے تعین کے حوالے سے بھی کمیٹی کو آگاہ کریں ،یہ بھی معلوم ہو اہے کہ سابق حکومت کے دور میں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کا دیگر سرکاری محکموں سے رابطہ مثالی نہیں رہا جس وجہ سے ان محکموں اور مذکورہ بورڈ کے درمیان مختلف امور پر اتفاق رائے نہیں اور کئی منصوبوں کا ریکاڈ بھی مکمل نہیں، اس لئے معاملہ کی تہہ تک پہنچنے کے لئے ابھی کمیٹی کے مزید اجلاس ہوں گے تاہم اب اس حوالے سے نئی حکمت عملی مرتب کی جارہی ہے جس کے تحت تمام محکمے باہم منسلک ہوں گے ۔