لاہور(انٹر ویو حافظ فیض احمد /تصاویر محمد کلیم)وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے سعد رفیق کے دورمیں خریدے گئے 55لوکو موٹیو،ٹریک مشین اور دیگر میٹریل کی خریداری میں اربوں روپے کی کرپشن کی گئی، نارروال ریلوے سٹیشن اور دیگرسٹیشنوں کی بحالی کے نا م پر 2ارب روپے کی خطیر رقم خرچ کی گئی جس پر نیب نے تحقیقات شروع کر دی ہیں، ریلوے کے بعض افسر وں سے بھی پوچھ گچھ کی جارہی ہے ،مسافروں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں دینا اولین ترجیح ہے ، ٹرینوں کو مانیٹر کرنے کے لیے ٹریکنگ سسٹم لگا رہے ہیں،قبضہ گروپوں کے خلاف ملک بھر میں بلا امتیا ز کارروائی جاری ہے اور تما م ڈویژنل سپرنٹنڈنٹس کو بھی ٹاسک دیئے ہیں، قبضہ گروپوں سے ہر صورت محکمہ کی زمین واگزار کرائی جائے گی اور اس حوالے سے کسی قسم کا اثر و رسوخ قبول نہیں کریں گے ،مسافر ٹرینوں سے دو ارب روپے سے زائد آمد ن ہوئی ہے ، ریلوے کی زمینیں لیز پر دینے کے لیے پالیسی تبدیل کر دی ہے ، اب پانچ سال سے زائد عرصہ کے لیے کسی کو زمین لیز پر نہیں دیں گے ۔روزنامہ 92نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا فریٹ سیکٹر کو میں خود مانیٹر کر وں گا، ریلوے کی تمام ڈویژنوں کے دورے کیے جارہے ہیں،جہاں خامیاں ہیں ان کو دور کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں ۔لاہور ریلوے سٹیشن سمیت دیگر کو سابق دور حکومت میں نظر انداز کیا گیا لیکن ہم لاہور ،راولپنڈی،کراچی،پشاور اورحید ر آبادریلوے سٹیشنوں کی تزئین و آرائش کے لیے کام کر رہے ہیں جس کیلئے فنڈ جلد جاری کر دیئے جائیں گے ۔شیخ رشید نے کہاتمام ڈویژنل سپرنٹنڈنٹس کو ہدایت کی گئی ہے کہ جن کے ذمہ واجبات ہیں ان سے واجبات لیے جائیں اورلیز کی مدت ختم ہونے پر فوری جگہ واپس لیں ۔فریٹ ٹرینوں کی تعداد 20تک لے جانے کا ٹاسک دیا ہے اور اس پر کام جاری ہے ، جس دن ریلوے کی 20فریٹ ٹرینیں ہوگئیں محکمہ اپنے پیروں پر کھڑا ہوجائے گا،ایم ایل ون پراجیکٹ کا انتظار ہے ، فیصلہ وزیر اعظم نے کرنا ہے ، کراچی تا پشاورٹریک ڈبل ہونے سے ٹرینوں کی رفتار میں اضافہ ہوگااور سفر کے دورانیے میں کمی آئے گی ۔