سفرنامے دو طرح کے ہوتے ہیں: نمبر ایک وہ جن میں مصنف سفر کرتا ہے۔ دوسرے وہ جن میں پہلے قاری اور پھر ادب سفر(Suffer) کرتا ہے۔ سفر اگرچہ گھر سے دوری، اعزہ سے جدائی، فرائض سے چشم پوشی، معمولات سے فرار اور خواہ مخواہ کی در بدری کا نام ہے لیکن قدرت نے جانے اس میں کیا مزہ رکھا ہے کہ نئے سے نئے علاقوں، نئی سے نئی تہذیبوں، نئے سے نئے موسموں، نئے سے نئے ذائقوں، نئے سے نئے لوگوں اور نئے سے نئے حالات و واقعات سے بغل گیری کے لیے حضرتِ انسان کی رال روزِ ازل سے ٹپکتی رہی ہے۔حتّیٰ کہ کچھ نیا اور انوکھا کرنے کی دُھن میں تو یہ باغِ بہشت کو بھی لات مار کے چلا آیا۔ہم دیکھتے ہیں کہ تقدیر اور تدبیر کے سنگ سنگ مٹی کا یہ باوا کبھی ہجرت، کبھی نفرت، کبھی تجارت، کبھی مال و دولت۔ اسی طرح کہیں پیدل، کہیں جانوروں کی معاونت سے اور کہیں مشینوں کی محکومی میں ہمیشہ محوِ سفر رہاہے۔ حد یہ کہ مال و متاع اور اسباب و علل سے عاری بھی ہوا تو محض آتشِ شوق اور حیدر علی آتش کے اس شعر کا سہارا لے کر چل پڑا کہ: سفر ہے شرط، مسافر نواز بہتیرے ہزار ہا شجرِ سایہ دار راہ میں ہیں ویسے تو اس کائنات کی تمام مخلوقات اپنے اپنے انداز میں سفر پرداز ہیں لیکن اس اشرف المخلوقات کا المیہ یہ ہے کہ یہ اپنے مشاہدات، تجربات، مشکلات، تحیرات، تعجبات، تفکرات ، فتوحات یہاں تک کہ حالات کے ہاتھوں کھائی جانے والی مات کی کیفیات سے بھی اپنے ہم نفسوں اور ہم جنسوں کو مستفید و متاثر و مرعوب کرنا چاہتا ہے، جس کے لیے یہ کہیں تقریر اور کبھی تحریر کا سہارا لیتا دکھائی دیتا ہے۔اس کے اسی تحریری اظہار کی کوکھ سے ’’سفرنامہ‘‘ کا اکھوا پھوٹا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک چھتنار برگد کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سفرنامہ جو کبھی روزنامچے کے بڑے بھائی کے درجے پہ فائز نظر آتا تھا، ہمارے بعض شاعروں ، ادیبوں کی نظرِ عنایت کی بدولت آج اردو کی بڑی بڑی برہمن ادبی اصناف کا گھر داماد بنا بیٹھا ہے۔ جہاں تک دنیاوی تاریخ کے پہلے سفر اور سفرنامے کا تعلق ہے ہمارے خیال میں اس کائنات کا سب سے اولین سفر حضرت آدم علیہ السلام نے کیا تھا، جو جنتِ سماوی سے کائنات ارضی تک محیط تھا۔ اس سفر میں چونکہ اختیار سے زیادہ جبر کو دخل تھا، اس لیے آدم علیہ السلام نے اس پہ سفرنامہ لکھنے کی بجائے گھٹنوں میں سر دے کے رونے کو ترجیح دی، حتیٰ کہ بقول شاعرِ مشرق روحِ ارضی کو مداخلت کرتے ہوئے کہنا پڑا کہ: کھول آنکھ ، زمیں دیکھ ، فلک دیکھ ، فضا دیکھ مشرق سے اُبھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ وہ دن اور آج کا دن حضرت انسان مشرق میں اُبھرتے ہوئے سورج اور مغرب میں ابھرتے ہوئے انسان کو دیکھنے کے لیے زمین کا گز بنا ہوا ہے۔ یہ بھی انسان کی ازلی مجبوری ہے کہ جو کچھ وہ آنکھوں کے ذریعے Receive کرتا ہے اس میں زبان یا قلم کے ذریعے دوسروں کو بھی شریک کرنا چاہتا ہے، جس کے لیے انتہا درجے کی مہارت، فن کاری اور چابک دستی کی ضرورتی ہوتی ہے وگرنہ ذرا سی بے احتیاطی سفرنامے کو صِفرنامے کے درجے پہ لاکھڑا کرتی ہے۔ صنفِ سفرنامہ کی مثال تو اس ہر دل عزیز حسینہ کی مانند ہے جو اپنے گھر میں قدم رکھنے والے ہر مزاج کے مہمان اور قلم کار کا کھلے دل، کھلی بانہوں اور کھلے بالوں کے ساتھ استقبال کرتی ہے۔ سرسید جیسا کوئی مصلح قوم اس کوجے میں آ نکلے تو ننگے پائوں اس کا استقبال کرنے کو لپکتی ہے۔ کوئی شبلی اور آزاد جیسا عالم و شاعر و محقق ادھر آنے کا قصد کر لے تو اس کے لیے یہ رنگین پائوں والا پلنگ بچھاتی ہے۔ کسی بھولے بسرے کمبل پوش کے ادھر آ نکلنے کی خبر گرم ہو تو بتی بال کے بنیرے اوپر رکھ آتی ہے۔ محمود نظامی یا اختر ریاض الدین جیسے افسر مزاج لوگوں سے آمنا سامنا ہو جائے تو ان کی باندی بن کے ساتھ ہو لیتی ہے۔ ممتاز مفتی جیسے بانکے سے مُڈبھیڑ ہو جائے تو مقاماتِ مقدسہ پہ بھی اکھ مٹکا کرنے سے باز نہیں آتی۔ محمد خالد اختر، اشفاق احمد اور سلمیٰ اعوان جیسے ارضِ وطن کے متوالوں سے ملاقات کی صورت نکل آئے تو ان کی بانہوں میں بانہیں ڈال کے صدقے واری جاتی ہے۔ کوئی مختار مسعود جیسا صاحبِ اسلوب اسے تاریخ کے ایوانوں کی سیر کرانے نکلے تو یہ ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر اس کے شانہ بشانہ چل نکلتی ہے۔ ابن انشا، عطاء الحق قاسمی اور افضل علوی جیسا کوئی متوالا موج میں آ کر اس کے چٹکیاں لینے لگ جائے تو یہ منھ بسورنے کی بجائے اس کے ساتھ چونچلے کرنے بیٹھ جاتی ہے۔ یونس متین جیسا کوئی شیدائی اس کا منظوم قصیدہ لکھ کے لے آئے تو اس پہ بھی باقاعدہ سر دُھنتی ہے اور اگر رحیم گل یا مستنصر حسین تارڑ جیسے صاحبانِ دل، اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے کا رنگین عزم لے کے بھی آ جائیں تو یہ شرما یا گھبرا کے پردے کی اوٹ میں جانے کی بجائے ان کے چٹاک پٹاک بوسے لینے لگتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل سڈنی میں مقیم خوب صورت شخصیت کے مالک اور پاکستان کے قابلِ فخر سپوت جناب طارق محمود مرزا کا نیا نکور اور دل فریب سفرنامہ ’’ دنیا رنگ رنگیلی‘‘ موصول ہوا۔ سفرنامہ دنیا کے تین خوب صورت ترین ممالک نیوزی لینڈ، جاپان اور تھائی لینڈ کی سیاحت پر مشتمل ہے۔قبل ازیں جناب طارق مرزا کی تین تصانیف یعنی حجازِ مقدس کی دل افروز داستان ’’ سفرِ عشق‘‘ مغربی ممالک کی پُر خمار سیاحت ’’خوشبو کا سفر‘‘ اور افسانوی مجموعہ ’’ تلاشِ راہ‘‘ مرحلۂ اشاعت طے کر چکے ہیں۔ ویسے آپس کی بات ہے کہ یہ تین کا لفظ ہمیںہمیشہ’ خواتین‘ کے اندر ہی مزہ دیا کرتا تھا لیکن سچی بات ہے کہ اب طارق مرزا کی تین تصانیف اور تین ممالک کی سیاحت کے حوالے سے بھی اچھا لگنے لگا ہے۔ زیرِ نظر سفرنامے میں مذکورہ بالا ممالک کے دل کش خِطوں کی دل چسپ انداز میں تصویر کشی کی گئی ہے۔مرزا صاحب کا اسلوب رواں ، شستہ اور شگفتہ ہے۔ وہ نہ صرف مختلف مناظر اور کیفیات کے بیان سے قارئینِ ادب کی آتشِ شوق کو مہمیز کرتے ہیں بلکہ قدم قدم ان مناظر، ماحول اور رویوں کا موازنہ آسٹریلیا اور پاکستان کے حالات و واقعات سے کر کے ہمارے زخموں پہ نمک اور حواس پہ چمک چھڑکتے چلے جاتے ہیں۔ ’’ دنیا رنگ رنگیلی‘‘ کا ایک بڑا کمال یہ بھی ہے کہ اس کے مطالعے سے ہم جیسے مقامی تماش بین گھر بیٹھے نیوزی لینڈ کی پُر سکون و پُر آسائش و پُر وقار زندگی، جاپان کے عروج و تمکنت و شکوہ کا عالم اور تھائی لینڈ کی نس نس سے چھلکتی کاروباری ذہنیت، حبس بھرے موسم اورروح پرور تعیش خانوں میں تفریح و تسکین کے سیکڑوں اسباب فراہم کرنے کی حقیقت جان جاتے ہیں۔ مختصر یہ کہ جناب طارق محمود مرزا کی پاکستان سے بے پناہ محبت نے جہاں سفرنامے میں جا بہ جا گداز کی کیفیت پیدا کر دی ہے ، وہاں ان کے مختلف علاقوں اور تہذیبوں کے مشاہدے اور معروضی موازنے کی صلاحیتوں نے سفرنامے کی سطر سطر میں دانش و بصیرت کی چھوٹ دے دی ہے۔وہ جہاں بھی جائیں اہل چمن کی دل داری اور وطنِ عزیز کی سفارت کاری کے فرائض سے غافل نہیں ہوتے۔ وہ اشیا سے لطف لینے اور اپنے قارئین میں لطافت تقسیم کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ (حلقہ اربابِ ذوق کے اجلاس میں پڑھا گیا۔)