قومی اسمبلی میں سابق قائد حزب اختلاف راجہ ریاض احمد نے لندن میں میاں نواز شریف سے ملاقات کے بعد ن لیگ کے قائد پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔ جمہوری معاشروں میں اپوزیشن لیڈروں کو ویٹنگ لیڈر آف دی ہائوس یا مستقبل کا وزیر اعظم تصور کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے وطن عزیز کی سیاست میں ذاتی مفاد ہی واحد ترجیحی اصول ہے۔ اس سے مفر نہیں کہ سیاسی اعتبار سے ہر شخص کو اپنے مستقبل کے فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے مگر راجہ ریاض احمد کو اس حوالے سے استثنیٰ اس لئے نہیں دیا جاسکتا کیونکہ بطور اپوزیشن لیڈر ان پر حکومت کی خاموش حمایت کا الزام لگتا رہا ہے۔ سابق حکومت نے جب آخری دنوں میں 52کے قریب قانون منظور کیے تھے اس وقت بھی اپوزیشن لیڈر کے کردار پر سوالات اٹھائے گئے یہاں تک کہ آج بھی بعض سیاسی حلقوں کی طرف سے مسائل کی جڑ سابق حکومت کو کہا جا رہا ہے۔ راجہ ریاض کا مسلم لیگ ن میں شمولیت کا فیصلہ ذاتی سہی مگر اس فیصلے سے سابق حکومت میں کی گئی قانون سازی اور موجودہ حکومت کے سابق حکومت کے تسلسل کے تاثر سے آئندہ انتخابات متنازعہ ہونے کا خدشہ ہے۔ جو کسی لحاظ سے بھی جمہوریت اور ملک و قوم کے مفاد میں نہیں۔ سابق اپوزیشن لیڈرکے اس فیصلے کے بعدبہتر ہو گا نگران حکومت اب اپنے اقدامات سے خود کو غیر جانبدار ثابت کرے اور ایسا تمام سیاسی جماعتوں کے لئے آئندہ انتخابات میں لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کرنے اور شفاف اور غیر جانبدارانہ الیکشن سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔