شجاعیہ،تل ابیب، نیویارک( نیوز ایجنسیاں، نیٹ نیوز، بیورو رپورٹ) اسرائیل نے غزہ شہر کے نواحی علاقے شجاعیہ پر تیسری بار حملہ کر دیا، حملے میں لڑاکا طیاروں نے بمباری کی جبکہ زمینی دستے بھی شریک ہیں، رفح میں محفوظ قرار دیے گئے علاقے المواسی پر بھی بم برسائے گئے جس کے نتیجے میں مزید61فلسطینی شہید اور 187زخمی ہو گئے ۔ صہیونی فوج نے علاقے کا محاصرہ کر لیا ہے جبکہ ایک بار پھر بے گھر فلسطینیوں کو علاقے سے نکل جانے کا حکم دیا ہے ،صرف ایک روز میں 17ہزار فلسطینی انخلا کر چکے ہیں۔شمالی غزہ میں حماس کے کارکن حملہ آور صیہونی فوج کیخلاف سخت مزاحمت کر رہے ہیں اور انہوں نے راکٹ حملے کر کے 3ٹینک بھی تباہ کر دیے ہیں تاہم فوری طور پر جانی نقصان کے متعلق معلوم نہیں ہو سکا۔دریں اثنا اسرائیل نے لبنان میں بھی میزائل حملہ کیا جس میں حزب اللہ کے 4کارکن جاں بحق ہو گئے ، حزب اللہ نے جوابی کارروائی میں شمالی اسرائیل پر متعدد راکٹ داغ دیے تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔اسرائیل کے انتہاپسند وزیر مالیات بزلیل سماتریچ نے مقبوضہ مغرب کنارے میں پانچ نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کیلئے فلسطینیوں کی رہائشی علاقے مسمار کیے جائیں، امریکہ سمیت دیگر ممالک نے اس مطالبے پر شدید اعتراضات کیے ہیں۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے گھر کے باہر ہزاروں شہریوں نے مظاہرہ کیاجس میں ان سے استعفے کا مطالبہ کیا گیا۔ مظاہرین نے ٹریفک روک دی اور مرکزی سڑک پر آگ لگا دی۔ مظاہرے کے شرکا نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’نیتن یاہو ناکام ہے ‘‘تحریر تھا۔ کینیڈا نے مقبوضہ مغربی کنارے میں انتہاپسندانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر اسرائیل کے 7شہریوں اور 5 تنظیموں پر پابندیاں عائد کر دیں۔اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی ایک مشکل اور پریشان کن عمل بن گیا ہے ، لڑائی بدستور جاری ہے اور لوگوں کو بہت تکالیف اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، عالمی پروگرام برائے خوراک کو بھی امداد کی فراہمی میں مشکلات درپیش ہیں۔