وفاقی حکومت نے ترسیلات زر میں اضافے کے لئے دو سال میں ایک لاکھ ڈالر پاکستان بھجوانے والے پاکستانیوں کو 3ہزار سی سی تک کی گاڑی ڈیوٹی فری لانے کی سکیم متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ غیر ممالک میں شہریوں کے ذریعے زرمبادلہ حاصل کرنے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان کا ساتواں نمبر ہے۔80لاکھ پاکستانی دنیا بھر کے ممالک سے تقریباً 20ارب ڈالر سالانہ پاکستان بھجواتے ہیں جو ملکی وسائل کا 6.5فیصد ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ماضی میں اتنی ہی رقم غیر قانونی ذرائع ہنڈی اور حوالے کے ذریعے پاکستان بھجوائی جاتی تھی۔ایف اے ٹی ایف کی کڑی شرائط اور حکومت کے موثر اقدامات کے باعث حوالے اور ہنڈی کے کاروبار میں خاصی کمی واقع ہوئی ہے جس کا ثبوت گزشتہ مالی سال کے ابتدائی 8ماہ کے دوران پاکستانیوں کا 14ارب 35کروڑڈالر پاکستان بھجوانا ہے جو پچھلے سال کی نسبت 11.8فیصد زیادہ تھا۔ غیر قانونی ذرائع سے بھجوانے کی ایک وجہ رقم کی ترسیل مہنگی اور مشکل ہونا ہے۔ حکومت کاایک لاکھ ڈالر پاکستان بھجوانے والوں کے لئے تین ہزار سی سی ڈیوٹی فری گاڑی پاکستان لانے کی اجازت دینے کے لئے قانون سازی کا فیصلہ یقینا لائق تحسین ہے۔ حکومت تارکین وطن کے لئے دیگر سہولیات مثلاً پاکستان میں ان کی املاک کو تحفظ فراہم کرنے اور سرمایہ کاری میں آسانیاں پیدا کر کے انہیں خطیر سرمایہ پاکستان منتقل کرنے پر آمادہ کر سکتی ہے بہتر ہو گا حکومت پاکستانیوں کو محفوظ سرمایہ کاری کی سہولت فراہم کرے تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے ساتھ ساتھ معاشی پہیہ رواں ہو سکے۔