لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر برائے تعلیم شفقت محمود نے کہاہے کہ صادق سنجرانی کا اصل قصور یہ ہے کہ وہ تحریک انصاف کے ووٹوں سے کامیاب ہوکر چیئرمین سینٹ بنے تھے ، انکی پارٹی ہماری اتحادی ہے اس لئے انہیں ہٹایا جارہا ہے ،تحریک عدم اعتماد لانا اپوزیشن کا جمہوری حق ہے لیکن ایوان میں اور بھی جماعتیں ہیں، سنجرانی سے جیتنا اتنا بھی آسان نہیں ہوگا، تحریک انصاف انہیں مکمل سپورٹ کریگی۔ پروگرام ہو کیا رہا ہے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہم نے شروع میں سوچا تھا اپوزیشن کیساتھ ملکرچلیں گے لیکن انہوں نے خود کوئی تعاون نہیں کیا۔ پروڈکشن آرڈر کا آئین میں نہیں لکھا ہوا لیکن مجرموں کو یہ جاری نہیں کئے جائینگے ۔اپوزیشن والوں نے جمہوری اقدار کو اپنی کرپشن چھپانے کیلئے ڈھال بنایا ہواہے ۔ اے این ایف ایک پروفیشنل ادارہ ہے ، وہ رانا ثنااﷲ کیخلاف جو بھی تفتیش کر رہا ہے وہ سو فیصد درست ہے ۔ آج کے اخبارات میں جو خبریں شائع ہوئی ہیں ان میں آئی ایم ایف نے ن لیگ کی حکومت کی بدترین نااہلی کا ذکر کیا ہے ۔عوام کو بالکل تکلیف ہے لیکن ہم نے گزشتہ دس ماہ میں 8 ارب ڈالر واپس کئے اور آنیوالے دنوں میں مزیدکرینگے ۔ کچھ تاجروں کو اکسایا جا رہا ہے ، کچھ کے حقیقی تحفظات ہیں جنہیں دورکرینگے ۔تجزیہ کار عارف نظامی نے کہا اگر اپوزیشن کی تحریک ناکام ہوجاتی ہے تو حکومت کی بہت بڑی کامیابی اوراپوزیشن کی ناکامی ہوگی،سنجرانی کو لانے والے بھی زرداری تھے اوربھیجنے پر بھی وہی تیار ہیں۔ جب حکومت نے اپوزیشن کو دیوار سے لگا دیا ہوتو وہ کیسے سیاست نہیں کھیلے گی۔شیخ رشید سے وزارت واپس لینی چاہئے ۔چیئرمین سینٹ کیلئے حاصل بزنجو کو لانا درست ہے ، انکی شخصیت قدآورہے میں نے پہلے ہی کہا تھا بلوچ کی جگہ بلو چ کو لایا جائیگا۔عمران خان کے دورہ کے موقع پر پاکستان اور افغانستان کے معاملے پر بات ہوگی ، بھارتی لابی ایف اے ٹی ایف کے معاملے کو اٹھائے گی، امریکہ ہمیں چین سے دور کرنے کی کوشش کر رہا ہے ،عمران خان کو اس دورے کی مربوط تیاری کرکے جانا چاہئے ۔