سندھ اسمبلی میں حکومت اور حزب اختلاف کے مابین پبلک اکائونٹس کمیٹی کی سربراہی کے معاملہ طے نہ ہونے کی وجہ سے 13قائمہ کمیٹیوں کا انتخاب 32ماہ میں بھی مکمل نہ ہو سکا۔ پارلیمانی کمیٹیاں مقننہ کا اہم جز ہوتی ہیں، ایک فعال اور متحرک کمیٹی نظام سے ہی ایگزیکٹو مقننہ تک اور مقننہ کا عوام تک احتساب ممکن ہو سکتا ہے، اسمبلیاں اپنااکثر بزنس کمیٹیوں کے ذریعے سرانجام دیتی ہیں، اس اہمیت کے پیش نظر آئین کے مطابق اسمبلی اجلاس کے بعد جتنی جلدی ممکن ہو، اسمبلی کی کمیٹیاں تشکیل دیا جانا لازم ہے۔ آئین میں کمیٹیوں کی تشکیل کا طریقہ کار بھی متعین ہے ۔ اسمبلی کمیٹی کے اراکین کا انتخاب قائد حزب اقتدار اور قائد حزب اختلاف اتفاق رائے سے کرتی ہے اگر اتفاق نہ ہو پائے تو متناسب نمائندگی کے ذریعے اسمبلی کمیٹی کے ارکان کا انتخاب کرتی ہے ۔ اسی طرح چیئرمین پبلک اکائونٹ کمیٹی کے انتخاب کا طریقہ بھی متعین ہے، مگر 2006ء میں میثاق جمہوریت کے تحت مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے یہ طے کیا تھا کہ کمیٹی کا چیئرمین اپوزیشن لیڈر ہو گا۔ میثاق جمہوریت کو بنیاد بنا کر ہی اپوزیشن قائد حزب اختلاف پی اے سی کے چیئرمین کے استحقاق کا دعویٰ کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف سندھ میں 32ماہ گزرنے کے باوجود 32 قائمہ کمیٹیوں پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ بہتر ہو گا سندھ حکومت وفاقی حکومت کے ساتھ معاملات افہام و تفہیم سے حل کرے تاکہ سندھ حکومت کے ساتھ وفاق میں بھی کمیٹیوںکا تنازعہ حل ہو اور پارلیمان عوام کے مفاد میں کام کر سکے۔