ایک جگنو ہی سہی ایک ستارا ہی سہی شبِ تیرہ میں اجالوں کا اشارہ ہی سہی ہم کو جلنا ہے بہر طور سحر ہونے تک اک تماشہ ہی سہی ایک نظارہ ہی سہی کہتے ہیں کہ پہلے درجے کے لکھنے والے نظریات، دوسرے درجے کے تخلیق کار واقعات اور تیسرے درجے کے لکھاری شخصیات کے حوالے سے لکھتے ہیں۔ مگر وہاں بندہ کیا کرے جہاں کوئی شخص ایک نظریہ، ایک مقصد اور ایک جنوں بن جائے۔ ایک ایسی ہی بے پناہ شخصیت میرے سامنے ہے کہ ان کی لکھی ہوئی خود نوشت "Reflection"میرے سامنے ہے جو ان کے شاگرد اور ہمارے دوست ڈاکٹر انتظار حسین نے نہایت محبت سے مجھے بھجوائی ہے۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میں آپ کو ان کا ایک قول زریں پڑھا دوں جو میرے دوست ڈاکٹر محمد امجد نے مجھے سنایا تھا اور میں عش عش کر اٹھا تھا: "Medical profession was a mission and unfortunately now it is commission" یہ کتنا بڑا سچ ہے کہ واقعتاً یہ مقدس پیشہ کبھی ایک مقصد اور عبادت ہوا کرتا تھا مگر اب تو ڈاکٹر ہر طرف سے کمیشن پر نظر رکھتے ہیں۔ سچی بات یہ کہ میں ڈاکٹر محمد امجد کو ان کے حوالے سے رطب اللسان دیکھ کر جی جان سے خوش ہوا کہ انہوں نے ایسے بڑے بڑے ڈاکٹرز پیدا کیے کہ جو ان کے نقوش قدم پر چل کر دنیا کو فیضیاب کر رہے ہیں۔ مجھے ان کے بارے میں جاننے کی خواہش ہوئی تو ان کی کتاب سامنے آ گئی۔ بحیثیت ڈاکٹر ان کے ایک تابناک پہلو نے مجھے بہت متاثر کیا کہ وہ غیر معمولی معالج ہونے کے باوجود مریض کی مالی حالت دیکھ کر فیس طلب کرتے رہے اور آدھے مریض مفت ہی انہیں دیکھنا پڑے۔ جہاں تک میں جان سکا کہ ان کے سینے میں ایک مومن کا دل ہے اور ذہن میں مون کی بصیرت، قدرت نے بھی انہیں دل کھول کر نوازا۔ وہ قرآن کے ساتھ جڑے رہے ڈاکٹر ابوبکر غزنوی اور ڈاکٹر اسرار احمد جیسے جید لوگوں کے دروس انہوں نے ابلاغ کروائے۔ میں ایسے لوگوں کو سنہرے لوگوں میں شمار کرتا ہوں۔ ڈاکٹر خواجہ صادق حسین جو کہ اس وقت 93سال کے چاق و چوبند آدمی ہیں اور جن کے شاگرد بوڑھے ہوتے جا رہے ہیں۔ وہ امرتسر میں پیدا ہوئے۔ مجھے معاً فیض احمد فیض، صوفی تبسم اور شہزاد احمد یاد آئے کہ کتنے ہی نابعۂ روزگار اس سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا کیریئر بہت شاندار رہا۔ قابل رشک بات یہ کہ ان کی نہ صرف قائدِ اعظم سے ملاقاتیں رہیں بلکہ جودستہ پہرہ دیتا تھا خواجہ صادق حسین اس میں شامل تھے۔ انہوں نے 1942ء میں لیاقت علی خان کو کنگ ایڈورڈ کالج میں مدعو کیا۔ 1950ء میں محترمہ فاطمہ جناح کو بھی مہمان بلایا۔ وہ اپنے پروفیشن کے ساتھ ساتھ آغاز ہی سے ایک محب وطن پاکستانی تھے۔ وہ کنگ ایڈورڈ کالج کے بیسٹ سٹوڈنٹ رہے۔ 1952ء میں انہوں نے رائل کالج ایڈمیرا سے M.R.C.Pکی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے کنگ ایڈورڈمیں پروفیسر آف میڈیسن کے طور پر 22سال گزارے جس میں 6سال پرنسپل شپ کے ہیں۔ ان کے حوالے سے نہایت دلچسپ بات یہ کہ انہوں نے ڈاکٹر کرنل الٰہی بخش کی مشہور کتاب قائد اعظمؒ کے آخری دن کا مسودہ پڑھا تھا۔ یہ کتاب روک دی گئی تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے کچھ وقت ان عظیم لوگوں کے ساتھ گزارا وہ ابوالکلام آزاد جیسے لوگوں سے بھی ملے۔ وہ اپنے بارے کہا کرتے ہیں کہ انہوں نے بحیثیت انڈین KEمیں داخلہ لیا اور جب ڈاکٹر بن کر نکلے تو پاکستانی تھے۔ وہ یہ بھی کہا کرتے ہیں کہ اگر کوئی سچا مسلمان نہیں تو وہ مکمل ڈاکٹر بھی نہیں۔ وہ مریضوں کو ٹیسٹوں کے چکر میں کم ہی ڈالتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹیسٹوں کے بغیر بھی تشخیص ہو جاتی ہے۔ اب کے تو ٹیسٹوں ہی میں جمع پونجی خرچ ہو جاتی ہے۔ بات پھر وہیں آتی ہے کہ وہ اس وقت کے ڈاکٹر تھے جب یہ انسانیت کی خدمت تھی۔ انہوں نے حجاز ہسپتال میں پندرہ سال تک اپنی خدمات مفت دیں۔ علاوہ ازیں افغانستان جہاد کے زخمیوں کا پشاور ہسپتال میں مفت علاج کیا۔ ناصر کاظمی کا شعر ذہن میں آ گیا: یہ آپ میں تو بوجھ ہیں زمین کا زمیں کا بوجھ اٹھانے والے کیا ہوئے مجھے خوشی ہے کہ ایک عظیم آدمی اس عہد کا اس عہد میں بھی خوشیاں بانٹ رہا ہے اور ایک زندہ رول ماڈل بن کر اپنے شاگردوں کے لیے فخر کرنے کا باعث بنا ہوا ہے۔ مجھے پتہ چلا کہ ہمارے بہت ہی پیارے دوست ڈاکٹر ناصر قریشی بھی ان کے شاگرد ہیں۔ پتہ چلا کہ پوری دنیا میں ان کے شاگردوں کی تعداد ہزاروں میں ہے اور یوں ایسے فرض شناس اور دیندار ڈاکٹر کے شاگرد کچھ نہ کچھ ان کی خوبیاں رکھتے ہونگے۔ ڈاکٹر محمد امجد مجھے بتانے لگے کہ صادق حسین میں حسِ مزاح بھی بہت ہے۔ کہنے لگے کہ ایک دن کسی میڈیسن کمپنی کا سیلز مین اپنی دوائی دکھانے آیا تو دوائی کی بے شمار خوبیاں بیان کرتا رہا اور ہر خوبی کے بیان پر وہ ایک فقرہ ضرور کہتا No side effect، خواجہ صادق حسین صاحب تنگ آ کر کہنے لگے "And this medicine has no effect as well" ڈاکٹر صاحب کے حوالے سے لکھنے کو بہت کچھ ہے۔ کیا چھوڑوں اور کیا لکھوں۔ ان کو سپورٹس کے ساتھ بھی بہت علاقہ رہا۔ تبھی تو کہتے ہیں کہ صحت مند جسم میں ہی صحت مند ذہن ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنے مزج اور اپنے رویے سے بھی اپنے شاگردوں کو اپنا گرویدہ کیا ہوا ہے۔ سب مل کر ان کی کتاب "Reflection"کی تقریب پذیرائی بھی کروا رہے ہیں۔ واقعتاً ایسے عظیم شخص کی زیادہ سے زیادہ پذیرائی ہونی چاہئے اور اس میں ہم اپنی توقیر میں اضافہ کریں گے۔ ان کی پامردی اور جدوجہد کے نام ایک شعر: کچھ نہیں ہاتھ کی لکیروں میں زندگی راستے بناتی ہے اسی لاجواب خود نوشت کے حوالے سے رائے دینے والوں میں ان کے شاگرد پروفیسر محمود علی ملک سابق پرنسپل KEپروفیسر ڈاکٹر شہریار احمد شیخ، ڈاکٹر خالدہ ترین(ستارۂ امتیاز) پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم اور پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل شامل ہیں۔ ڈاکٹر خواجہ صادق حسین صاحب اس وقت تو باریش ہیں اور بہت ہی برگزیدہ نظر آتے ہی نہیں ہیں بھی مگر انہوں نے کتاب پرجو تصویر دی ہے وہ تب کی ہے جب آتش جوان تھا۔ مقصد اس تصویر کا یہ کہ ان کے ہزاروں شاگرد انہیں دیکھتے ہی پہچان جائیں۔ میری اپنی رائے یہ ہے کہ اگر موجودہ تصویر لگائی جاتی تو زیادہ اچھا لگتا۔ اس کتاب کا حسن وہ رنگین تصاویر بھی ہیں جن میں ڈاکٹر صاحب نے مختلف ممالک کی سیرگاہوں میں گزارے گئے لمحوں کو مقید کر لیا ہے۔ تبھی تو آغاز کے صفحہ پر نادر کاکوروی کے اشعار درج ہیں۔ اکثرشبِ تنہائی میں، کچھ دیر پہلے نیند سے گزری ہوئی دلچسپیاں، بیتے ہوئے دن عیش کے بنتے ہیں شمعِ زندگی، اور ڈالتے ہیں روشنی میرے دل کے صد چاک پر بس یہیں کالم ختم کرتے ہیں اور ڈاکٹر صاحب سے کہتے ہیں کہ ہمیں آپ جیسے پاکستان کے سپوت پر فخر ہے آپ جیسے لوگوں کے دم قدم سے میرا ملک معطر ہے اور قائم دائم بھی۔