ٹاسک فورس برائے سول سروس اصلاحات کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے نوکرشاہی کو سیاسی مداخلت سے پاک کرنے اور اسے ہر قسم کے دبائو سے آزاد رکھنے پر زور دیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران نوکر شاہی کو سیاست زدہ بنانے کے لئے کئی ناقابل قبول اقدامات کئے گئے۔ اس کی قصور وار یقینا سابق حکمران جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن ہیں۔ وزیر اعظم سول سروس ڈھانچے میں اصلاحات کا مقصد افسر شاہی کو مستعد اور درپیش انتظامی مسائل سے نمٹنے کے قابل بنانا قرار دیتے ہیں۔ وزیر اعظم سمجھتے ہیں کہ سابق حکمرانوں نے بلا جواز محنتی اور دیانت دار افسران پر دبائو ڈالا جس کے باعث افسران نے کئی مواقع پر احتیاطاًکام کرنے سے معذرت کر لی۔ وزیر اعظم اور ان کی حکومت جس سروس ڈھانچے میں اصلاحات کے آرزو مند ہیں اس کی بنیادی ذمہ داری سویلین انتظامی معاملات انجام دینا‘ کابینہ کے سیکرٹریٹ اور ڈائریکٹوریٹس چلانا ہے سول سروس کا سربراہ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ہوتا ہے جو براہ راست وزیر اعظم کو جوابدہ ہے۔ سول سروس وہ انجن ہے جو ملک کے انتظامی امور کی گاڑی کھینچتا ہے۔ پاکستان سول سروس بنیادی طور پر آزادی سے قبل کی انڈین سول سروس کے نمونے پر قائم کی گئی ہے۔1971ء میں پاکستان سول سروس کی تنظیم نو کی گئی۔ آئین پاکستان کی شق 240‘ پارٹ 12اور باب 1میں اس کی آئینی حیثیت بیان کی گئی ہے۔ قومی سلامتی کے معاملات پر سول بیورو کریسی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ انتہائی قریبی تعلقات رکھتی ہے۔ سول سروس میں صرف قلیل حصہ کی تعیناتیاں تعلیم‘ قابلیت اور صلاحیت کی بنیاد پر کی جاتی ہیں جبکہ زیادہ تر تعیناتیاں کوٹہ سسٹم کی ذیل میں آتی ہیں۔ پسماندہ‘ غریب اور دور دراز علاقوں کے نوجوانوں کو سول سروس کا حصہ بنانے کے لئے کوٹہ سسٹم رائج کیا گیا تھا۔1973ء میں سول سروس ایکٹ منظور ہونے کے بعد وفاق اور صوبوں کو اپنی سول سروس کا ڈھانچہ بنانے کا موقع ملا۔ اس کے نتیجے میں وفاق اور صوبوں کی سول سروسزکی تعیناتی‘ ٹرانسفر اور ترقی کے الگ الگ ضابطے مقرر کئے گئے۔ سول سروس پاکستان کسٹمز سروسز‘ کامرس اینڈ ٹریڈ گروپ‘ فارن سروس آف پاکستان‘ ان لینڈ ریونیو سروس آف پاکستان‘ انفارمیشن سروسز آف پاکستان‘ ملٹری لینڈ اینڈ کنٹونمنٹ گروپ‘ آفس مینجمنٹ اینڈ سیکرٹریٹ گروپ‘ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس‘ پاکستان آڈٹ اینڈ اکائونٹس سروس‘ پولیس سروس‘ پوسٹل گروپ اور ریلوے گروپ پر مشتمل ہے۔ یہ سچ ہے کہ سیاسی حکومتوں نے سول سروس سے کام لینے کی بجائے اپنے بعض پسندیدہ افسران کے ذریعے ایسے کاموں کے لئے استعمال کرنا شروع کیا جو عمومی طور پر سول افسران کی ذمہ داریوں سے انحراف کے مترادف تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کئی افسران کو اپنا نظریاتی حامی نہ ہونے پر انتقام کا نشانہ بنایا۔ ضیاء الحق نے ایسے ہر افسر کو چن چن کر نکالا جس پر انہیں بھٹو کا حامی ہونے کا شبہ تھا۔ انیس سو نوے کے عشرے میں جمہوریت بحال ہوئی‘ سیاسی قائدین نے سابق غلطیوں سے سیکھنے کا یقین دلایا مگر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی سیاسی جنگ نے پوری سول سروس کو تقسیم کر دیا۔ پنجاب میاں نواز شریف کے پاس تھا۔ انہوں نے بڑے صوبے میں زیادہ افسران اور وسائل کو اپنے اثرورسوخ میں اضافے کا ذریعہ بنایا۔ دوسری طرف محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی سندھ میں تعینات سول افسران کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی تاہم وہ میاں نواز شریف کا مقابلہ نہ کر سکیں۔ میاں نواز شریف کی جانب سے ان کے بھائی اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے گڈ گورننس کا دعویٰ کرتے ہوئے اپنے پسندیدہ افسران پر نوازشات شروع کر دیں۔ انتہائی جونیئر افسران کو سینئر گریڈز میں تعینات کیا جانے لگا۔ اس سے سول سرونٹس میں بددلی پھیلی۔ بہت سے لوگ ملک چھوڑ گئے۔ جن جونیئر افسران کو سینئر پوزیشن پر تعینات کیا گیا ان کے ذریعے انتظامی ضابطوں میں اپنے حق میں تبدیلیاں کرائی جاتی رہیں۔ گزشتہ دور حکومت میں ایسے بہت سے افسران تھے جو اپنی باقاعدہ تنخواہ کے ساتھ کئی حسابات میں الگ بھاری مراعات وصول کر رہے تھے۔ لیگی حکومت اس حد تک اپنے پسندیدہ بیورو کریٹس پر مہربان تھی کہ ان کے اراکین اسمبلی بھی اس رویے سے شاکی رہتے تھے۔ قابل اور باصلاحیت افسران نے اس موقع پر یا تو حالات سے سمجھوتہ کر لیا یا پھر ملازمت سے استعفیٰ دے کر کسی دوسرے شعبے میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس فضا میں سول سروس عوام کی بہبود اور ریاست کے مفادات کا تحفظ کرنے کی بجائے حکمرانوں کے مفادات کی محافظ بن کر رہ گئی۔ اس خرابی کا نتیجہ میٹرو منصوبوں میں بدعنوانی‘ آشیانہ منصوبوں میں بے ضابطگی اور سانحہ ماڈل ٹائون کی شکل میں دکھائی دیتا ہے۔ وزیر اعظم سول سروس کے ڈھانچے میں اصلاحات لانا چاہتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ افسران کو حکمرانوں کی بجائے ریاست کا وفادار بنانے کے خواہش مند ہیں۔ ایسا ہونے کی صورت میں پوری انتظامی مشینری کو ایک نئی فضا ملے گی۔ پاکستان کے عوام سیاستدانوں کی نالائقی اور غفلت کے سبب پریشان ہیں۔ وہ ریاست سے مدد طلب کر رہے ہیں۔ سول سروس اگر سیاسی مداخلت سے پاک ہو گی تو ریاست کا مہربان انتظامی چہرہ عوام کے سامنے آ سکے گا۔ وزیر اعظم کو سول سروس اصلاحات متعارف کرانے سے قبل صرف موجودہ اعلیٰ افسران اور ٹاسک فورس پر تکیہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس ضمن میں فلاحی ریاست میں بیورو کریسی کے کسی غیر ملکی ماڈل کا ضرور جائزہ لینا چاہیے۔