وفاقی کابینہ نے سوشل میڈیا قوانین کی منظوری دیدی ہے۔ یو ٹیوب ‘ فیس بک‘ ٹوئٹر‘ ٹک ٹاک کے لئے اسلام آباد میں دفتر کھولنا ضروری قرار دے دیا گیا ہے۔سوشل میڈیا کمپنیوں نے اگر قواعد پر عمل نہ کیا تو 50کروڑ روپے تک جرمانہ ہو گا۔ حکومت نے قومی سلامتی ‘ دہشت گردی ‘ انتہا پسندی ‘ نفرت انگیز تقریر‘ بدنامی اور جعلی خبروں سے متعلق آن لائن مواد کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لئے سٹیزن پروٹیکشن رولز2020ء کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ دنیا گلوبل ویلج کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے جس انداز سے ترقی کی ہے۔ ماضی میں اس کا تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ جدید ٹیکنالوجی نے ہزاروں کلو میٹر دور بیٹھے افراد کو سامنے لا کر بٹھا دیاہے۔ اس کی بدولت دوسرے کلچر تک رسائی آسان ہو چکی ہے۔ پہلے آپ اپنی پسندیدہ شخصیت کو صرف ٹی وی پر دیکھ سکتے تھے اب ایک کلک پر اس سے ناتا جوڑ سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے جہاں پر بہت ساری آسانیاں پیدا کی ہیں۔ وہی پر اس کی بے ہنگم آزادی نے معاشرے میں بے راہ روی کو جنم دیا ہے۔جہاں پر سوشل میڈیا کے ہزاروں فوائد ہیں وہی پر اگر اس کا غلط استعمال کیا جائے تو اس سے زیادہ تباہی پھیلانے والا کوئی شعبہ نہیں۔ اس وقت بہت سارے فتنے فساد سوشل میڈیا کی وجہ سے رونما ہو رہے ہیں۔ مخالفین پر کیچڑ اچھالنا‘ فتنہ انگیز خبروں سے ٹارگٹ کرنا‘ سیاسی‘ لسانی‘ مذہبی اور علاقائی تعصبات کو ہوا دینا معمول بن چکا ہے۔ اس کے برعکس اگر مغربی ممالک کا جائزہ لیں تو وہاں پر سوشل میڈیا کو صرف سوشل ایکٹیوٹی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ وہاں پر مخالفین کو اس کے ذریعے تعصب کا نشانہ بنانے کی گنجائش ہے نہ ہی کسی قسم کے ممنوعہ مواد کو اپ لوڈکیا جاسکتا ہے۔ توہین رسالت کا مسئلہ سب سے اہم ہے۔ مسلم اُمہ اور بالخصوص پاکستانی عوام کسی طور پر بھی رسالت مآبؐ کی شان اقدس میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتے۔ لیکن بعض دین بیزار عناصر اس حساس مسئلے کو سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنا کر جان بوجھ کر مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ناروے میں قرآن پاک کی بے حرمتی کی گئی۔ اسی طرح پاکستان میں بھی دین بیزار عناصر توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہیں۔ پاکستانی قوانین کے تحت جب ان کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے تو پوری دنیا میں لادین قوتیں ایک طوفان بدتمیزی برپا کر دیتی ہیں اس لئے اگر سوشل میڈیا کو ریگولیٹری کر دیا جاتا ہے تو نہ صرف ایسے مسائل سے بچا جا سکتا ہے بلکہ معاشرے میں پھیلی بے راہ روی پر کسی حد تک قابو پایا جا سکے گا۔ عالمی طاقتیں اپنے لیے تو قوانین بنا لیتی ہیں لیکن جب مسلمانوں کی باری آتی ہے تو خاموش ہو جاتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہولو کاسٹ بارے آج بھی دنیا میں کچھ تحریر کیا جا سکتا نہ ہی اس کی تصاویر اپ لوڈ کی جا سکتی ہیں۔ اس وقت پاکستان میں سوشل میڈیا کے 50ملین سے زائد اکائونٹس موجود ہیں۔ فیس بک استعمال کرنے والوں کی تعداد 30ملین سے زائد ہے انہیں لازمی طور پر ریگولیٹ کرنا چاہیے۔ لیکن ریگولیٹ قوانین آزادی اظہار کے طے قوانین کے منافی نہیں ہونے چاہئیں۔کیونکہ صحت مند معاشرے کی تکمیل میںمیڈیا کا بنیادی کردار بڑا اہم ہے جو ادارہ جاتی خامیوں‘ کمزوریوں اور سماجی برائیوں کی نشاندہی اور انہیں اجاگر کر کے معاشرے میں لاقانونیت ‘من مانیوں‘ اختیارات کے ناجائز استعمال اور دوسری سماجی برائیوں کے تدارک میں معاون بننا ہے۔ اس لحاظ سے میڈیا کا کردار ایک آئینے سے تعبیر کیا جاتا ہے جس میں سب کو اپنا چہرہ نظر آتا ہے۔ آزادی صحافت کا بھی یہی تصور ہے کہ اس کی بنیاد پر سماجی برائیوں اور حکومتی ادارہ جاتی کمزوریوں کی نشاندہی کی جاتی ہے جن کے تدارک کے اقدامات کر کے معاشرے کو حقیقی معنوں میں برائیوں سے پاک کر کے فلاحی جمہوری معاشرے کے قالب میں ڈھالنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں میڈیا کو ریاست کے چوتھے ستون کا درجہ دیا گیا ہے۔ جبکہ آئین کی دفعہ 19میں آزادی اظہار کے ساتھ ساتھ پریس کی آزادی کو بھی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ دوسری جانب میڈیا کو اپنی حدود و قیود اور آزادی کے تقاضوں کا احساس ہی نہیں بلکہ اس کی مکمل پاسداری بھی ہے۔ اسی بنا پر میڈیا ایک ذمہ دار قومی ادارے کے طور پر اپنے فرائض آئین میں دیے گئے تقاضوں کے مطابق سرانجام دے رہاہے۔ لہٰذا حکومت سوشل میڈیا ریگولیٹری قوانین بناتے وقت قومی میڈیا کی آزادی کو ملحوظ خاطر رکھے تاکہ اداروں کے مابین کسی قسم کی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔سوشل میڈیا پر جو گند اچھالا جاتا ہے اس کی قطعاً اجازت نہیں ہونی چاہیے۔جس طرح حکومت نے موبائل کمپنیوں کی سموں کے اجرا پر بغیر تصدیق کے پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اسی طرح فیس بک ‘ یو ٹیوب‘ ٹک ٹاک اور ٹوئٹر پر 18برس سے کم عمر بچوں کے اکائونٹ پر پابندی عائد کرنی چاہیے۔ سوشل میڈیا پر فحش مواد پراپ لوڈ کرنیوالوں کا اکائونٹ بند کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر جرمانہ بھی عائد کیا جائے۔ مذہبی ‘ لسانی اور علاقائی تعصبات پھیلانے والے عناصر کو بھی قانون کے سامنے جوابدہ بنایا جائے۔ یعنی سوشل میڈیا پر کسی کو مادر پدر آزادی کی اجازت نہ دی جائے۔ ہمارے قومی میڈیا کو بھی بیدار‘ چوکنا ‘ ہوشیار اور مستعد ہونا چاہیے۔ موج مستی ‘ تماشاگری اور چسکا بازی کی آبیاری اس کی اصل قوت نہیں۔ اس کی اصل طاقت اس کی ساکھ وقار اور اختیار ہے۔ کسی کی پگڑی اچھالنا ‘ کسی کے گریبان کی دھجیاں اڑانا بغیر تحقیق کسی کے چہرے پر کالک تھوپ دینا، اس کی لامحدود طاقت کا مظاہرہ ضرور ہو سکتا ہے لیکن اس سے وہ معتبر نہیں ہو سکتا، اس لئے سوشل میڈیا استعمال کرنے والے ہر شخص کو اپنی ادائوں پر غور کرنا چاہیے تاکہ اس کا وقار برقرار رہے۔ سوشل میڈیا اگر اپنے وقار کا خیال رکھتا تو اسے اس مشق کی قطعاً ضرورت نہ پڑتی لیکن اس کی بے محابا طاقت نے آج حکومت کو قوانین بنانے پر مجبور کیا ہے۔جسے بلاجواز قرار نہیں دیا جا سکتا۔