اسلام آباد (خبرنگار، 92نیوز رپورٹ) وفاقی حکومت نے جسٹس قاضی فائز عیسی ٰکی صدراتی ریفرنس کے خلاف آئینی پٹیشن مسترد کرنے کی استدعا کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں موقف اختیار کیا ہے کہ پٹیشن ناقابل سماعت ہے ۔ وفاقی حکومت کی طرف سے اٹارنی جنرل انورمنصورنے جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا ہے ،جس میں وفاقی حکومت نے صدارتی ریفرنس کیخلاف آئینی درخواستوں کے دائرہ اختیار سماعت پر سوال اٹھا یاہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ آرٹیکل 184 کی شق تین کے تحت مفاد عامہ یا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر درخواست دائر ہوسکتی ہے ،ریفرنس کے خلاف نہیں۔مزید کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی ٰکی طرف سے صدارتی ریفرنس کیخلاف درخواست میں وزیراعظم،صدر مملکت اور وزیر قانون کو فریق بنایا گیا، جبکہ وزیراعظم، صدر اور وزیر قانون کو آرٹیکل248کے تحت استثنیٰ حاصل ہے ، عدالت میں جواب دہ نہیں،جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے اپنی درخواست میں بے بنیادالزامات لگائے ،جبکہ ریفرنس کسی پس پردہ مقاصد کے تحت دائرنہیں کیاگیا۔سپریم کورٹ صدارتی ریفرنس کیخلاف درخواستیں ناقابل سماعت قرار دیکر خارج کرے ، جواب میں کہا گیا ہے کہ صدارتی ریفرنس بد نیتی پر مشتمل نہیں ہے ، بدنیتی ثابت کرنے کا بار ثبوت الزام لگانے والے پر ہوتا ہے ،صدارتی ریفرنس کا مقصد عدلیہ کو نیچا دکھانا نہیں۔وفاق کے جواب میں کہاگیاہے کہ ججزکاکردارعام آدمی کے برابرنہیں ہوتا،سپریم کورٹ کوسپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کاجائزہ لینے کااختیارنہیں۔دریں اثناء قبل ازیں سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کیخلاف درخواستوں پر کیس کی سماعت شروع ہوئی۔عدالت عظمٰی نے صدارتی ریفرنس کے خلاف وفاقی حکومت کے تحریری جواب کا جواب دینے کے لئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل کی التوا کی استدعا منظور کرکے واضح کردیا ہے کہ زیر غور کیس چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے مقدمے سے مختلف ہے ۔جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دس رکنی فل کورٹ بینچ نے کیس کی مزید سماعت پیر تک ملتو ی کرکے آبزرویشن دی کہ زیر غور کیس میں جج صاحب یرغمال ہیں نہ گھر میں نظر بند اور نہ ہی غیر فعال ،جائیداد وں کی خریداری کے معاملے کو قالین کے نیچے نہیں دبا سکتے ،خصوصا ًتین جائیدادیں جن کاا نکار نہیں کیا گیا اور وہ اس وقت خریدی گئیں جب درخواست گزار جج صاحب چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ تھے ۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریما رکس دیئے کہ ہم کیس کا ہر پہلو سے جائزہ لیں گے درخواست گزار کو استثنیٰ دیں گے اور نہ آئینی عہدیداروں کو بدنام ہونے دیں گے ۔ منیر اے ملک نے موقف اپنایا عدلیہ کی آزادی کا تحفظ تمام ججوں کی آئینی ذمہ داری ہے ،ان کے موکل کو ہراساں ، اہل خانہ کی جاسوسی کی گئی ،کیس حکومتی بدنیتی کا ہے ، ان کے موکل نے 13ایسے فیصلے دیئے جوانتظامیہ کے خلاف ہیں،ان کے موکل کے فیصلے ریفرنس دائر کرنے کی وجہ بنے ۔ جسٹس عمر عطابندیال نے حکومتی بد نیتی ثابت کریں ہم اس کیس کو لمبا نہیں کھنچیں گے ۔جبکہ منیر اے ملک نے دلائل دینے سے انکارکرتے ہوئے حکومت کے جواب کے بغیر مقدمے کی کارروائی جاری رکھنے اور اپنی معروضات پیش کرنے سے معذرت کر لی۔ اٹارنی جنرل نے جواب کی نقل منیر اے ملک کو فراہم کرتے ہوئے کہا کہ وفاق کا جواب جمع کردیا جائے گا۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا بتائیں صدارتی ریفرنس کے حقائق میں کہاں بدنیتی برتی گئی ،یہ بتائیں جو الزامات لگائے کیا وہ غلط ہیں ،ریفرنس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جائیدادیں بدنیتی کے تحت بنائی گئیں، پیسے کہاں سے آئے ثبوت نہیں دیا ۔منیر اے ملک نے وفاق کے جواب پر جواب الجواب دینے کے لئے ایک ہفتہ کی مہلت کی استدعا کی لیکن عدالت نے استدعا مسترد کی ۔جسٹس بندیال نے کہا بتائیں کیسے جج صاحب کی تضحیک ہوئی۔منیر اے ملک نے کہا وہ عدالت کے ہر سوال کا جواب دیں گے لیکن موکل سے مشورہ کریں گے ۔ وکیل ر شید اے رضوی نے کہا عدالت 15 درخواست گزاروں کو نظر انداز کررہی ہے ۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا یہ کوئی کیک نہیں کہ سب کو حصہ ملے گا یہ ایک کیس ہے جس کی ہم نے سماعت کرنی ہے ۔منیر اے ملک نے کہا میں جواب دے رہا ہوں لیکن اعتراض ہے کہ کیا کونسل کی نمائندگی اٹارنی جنرل کرسکتا ہے ۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کونسل جواب دینے کی پابند نہیں ۔ کوئٹہ کے وکلائکی طرف سے سماعت منگل تک ملتوی کرنے کی استدعا بھی مسترد کی گئی۔