اسلام آباد(خبر نگار،آئی این پی)عدالت عظمٰی نے والدین کی طلاق سے متاثرہ بچی کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے باپ کو بیٹی کے 16 سال کے اخراجات ادا کرنے کا حکم دیدیا،عدالت نے ولدیت کے خانے سے باپ کا نام ہٹانے کے معاملے پر وفاقی شرعی عدالت کے جج جسٹس فدا محمد خان سے تحریری رائے بھی طلب کرلی ۔چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بچپن میں والدین کی طلاق سے متاثرہ بچی تطہیر فاطمہ کی جانب سے ولدیت کے خانے سے والد کانام نکالنے کیلئے دائر کیس کی سماعت کی، درخواست گزار نے استدعاکی کہ سرکاری دستاویزات سے باپ کا نام خارج کردیا جائے ، بیشک میرا نام تطہیر فاطمہ بنت پاکستان کردیں ۔چیف جسٹس نے تطہیر فاطمہ کے والد سے پوچھا آپ نے کفالت کیوں نہیں کی؟، اگر آپ والد ہونا تسلیم نہیں کرتے تو میں اس بچی کا والد ہوں، بچے کی ولدیت کو ختم نہیں کیا جاسکتا،ہم اس معاملے کا ہر پہلو سے جائزہ لیں گے ۔ والد شاہد ایوب نے کہا جو حکم کرینگے تعمیل ہوگی لیکن میری بیٹی مجھے کبھی نہیں ملی اور اس کی والدہ نے ہمیشہ میری بے عزتی کی ۔ تطہیر فاطمہ کی والدہ نے کہا شاہد ایوب نے مجھ پر کیچڑ اچھالا۔ سپریم کورٹ نے پاکستان لیور کڈنی انسٹی ٹیوٹ کے انفراسٹرکچر کا کنٹرول پانچ رکنی مینجمنٹ کمیٹی کو دینے کا حکم دیتے ہوئے جسٹس (ر) اقبال حمید الرحمن کو سربراہ مقرر کردیا،عدالت نے حکم دیا حکومت کمیٹی کو دو دن میں ریکارڈ فراہم کرے ، چیف جسٹس نے کہا تیس ارب روپے حکومت نے ایک ٹرسٹ کو پکڑا دیئے ، ضرورت پڑی تو آڈٹ کرائیں گے ۔عدالت عظمٰی نے ڈی آئی خان میں فرقہ ورانہ ٹارگٹ کلنگ سے متعلق آئی جی خیبر پختونخوا کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے چیف سیکرٹری سے فرقہ ورانہ تشدد کے خلاف اقدمات کی تفصیلات طلب کرلیں۔چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکن بینچ نے ابزرویشن دی فرقہ وارانہ قتل کے خاتمہ کیلئے ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے ۔جسٹس عظمت سعید شیخ کی سر براہی میں عدالت عظمٰی کے تین رکنی بینچ نے قتل کے الزام میں نامز د ملزم سندھ اسمبلی کے رکن برہان چانڈیو کی ضمانت منسوخی کے لئے دائر درخواست نمٹاتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو تفتیش سمیت پورے کیس کے از سر نوجائزہ لینے کا حکم دیدیا۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں عدالت عظمٰی کے تین رکنی بینچ نے 2005 کے زلزلہ زدگان کی امداد میں خرد برد اور عملدرآمد کے حوالے سے کیس کی سماعت کرتے ہوئے سیشن جج مانسہرہ کو6 ہفتوں میں انکوائری رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیدیا۔ چیف جسٹس نے کہا دیکھنا ہے اربوں روپے کدھر گئے ۔