اسلام آباد، مظفر آباد(خبر نگار، نیوز ایجنسیاں )سپریم کورٹ نے نیب سے نندی پورپائور پراجیکٹ سکینڈل کی تحقیقات کا مکمل ریکارڈ اور سابق چیئرمین نیب قمر زمان کے دور سے زیرالتوامقدمات کی فہرست طلب کرلی ہے ۔جمعرات کو نندی پور پائو پراجیکٹ میں مبینہ کرپشن کے بارے مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریما رکس دیے کہ قمر زمان چودھری کے دور میں نیب کا بھٹہ بیٹھا ہواتھا ، جائزہ لے رہے ہیں کہ نندی پور پائور پراجیکٹ آئوٹ سورس کرنے کی بولی اصلی تھی یا جعلی ۔ چیف جسٹس نے سوال کیاکہ نیب میں مجموعی طور پر کتنی تحقیقات زیر التوا ہیں زیر التوا ریفرنسز کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے یہ بھی بتایا جائے کتنے ریفرنسز میں شواہد ریکارڈ ہو چکے ،اس رفتار سے تو کام نہیں چلے گا۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ نیب کارکردگی دکھائے کسی کے خلاف ریفرنس بنتا ہے تو بنائے ورنہ لوگوں کو سولی پر نہ لٹکائیں۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا عدالت نوٹس لے تو نیب کو گیئر لگ جاتا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا سابق چئیرمین نیب قمر الزمان کو بھی بلوالیتے ہیں ۔چیف جسٹس نے کہا نیب حکام اہم کیس الماریوں میں رکھ کو بھول گئے تھے ، کیوں نہ قمر زمان کے خلاف کیسز کو سرد خانے میں رکھنے کی کاروائی کی جائے ؟ چیف جسٹس نے کہانندی پور منصوبے پر عدالتی کمیشن رپورٹ بھی آچکی ہے ۔ وقفہ کے بعد کیس کی سماعت شروع ہوئی تو سابق چئیرمین نیب قمر الزمان عدالت میں پیش ہوگئے ۔ چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیاکہ آپکے کیخلاف انکوائری کیوں نہ کرائیں۔ قمر زمان نے کہاکہ نندی پور پاور پلانٹ کی انکوائری کروا کر گیا ۔ چیف جسٹس نے کہانیب بتا دے کہ نندی پور ریفرنس کب فائل ہونگے ؟ اور قمر الزمان کے دور کی پنڈنگ انکوائریوں کی فہرست بنا کر دی جائے ، سابق چیئرمین سے وضاحت مانگیں گے ، قمر الزمان لوگوں کو فائدہ دیتے رہے ۔ علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے نے امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کو وطن واپس لانے کے معاملے میں نیب سے جواب طلب کرلیا ہے ۔چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے میمو گیٹ سکینڈل کیس کی سماعت دو ہفتے کے لئے ملتوی کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ حسین حقانی کو وطن لانے کا معاملہ حکومت کے ساتھ اٹھائے ۔ عدالتی معان نے کہا حسین حقانی کے معاملے میں ریڈ وارنٹ معاون ثابت نہیں ہوسکتے ، اگر ریڈ ورانٹ میں حسین حقانی گرفتار ہو بھی گئے تو بے دخل نہیں کیا جاسکتا۔دریں اثنا سپریم کورٹ نے مقامی اورکثیر الملکی این جی اوز میں اصلاحات سے متعلق عدالتی احکامات پر عمل درآمد کے بارے میں لا اینڈ جسٹس کمیشن سے 15 روزمیں رپورٹ طلب کر لی ہے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ملکی اور کثیر الملکی این جی اوزاصلاحات کیس کی سماعت کی۔ مزید برآں سپریم کورٹ نے بچوں کے اغوا اور ٹریفکنگ کی وجوہات جاننے کے لئے کمیٹی بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے کمیٹی کے لئے ارکان کے نام طلب کرلئے ہیں ۔چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے بچوں کے اغوا اور چائلڈ ٹریفکنگ سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ دوسری طرف دیا مر بھا شا اور مہمند ڈیمز کی جلد تکمیل کیلئے سفارشات سپریم کورٹ میں پیش کر دی گئیں ہیں۔سپریم کورٹ نے اِن سفارشات کی توثیق کر دی ہے ، جس کے بعد طویل عرصہ سے تعمیراتی کام کے منتظر اِن دونوں منصوبوں پر کام کا جلد آغاز ممکن ہوگیاہے ۔ چیف جسٹس پاکستان نے زلزلہ متاثرہ علاقوں کے ڈپٹی کمشنر ز سے متاثرین کو دی جانے والے پیکج اور ڈیٹا مانگ لیا رجسٹرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو مکتوب بذریعہ فیکس بھیج دیئے ۔ مکتوب میں تحریر کیا گیا کہ زلزلہ میں شہید ہونے والے افراد املاک کا جتنا بھی نقصان ہوا، اسکا مکمل ڈیٹا فراہم کا جائے کن کن افراد کو کتنی رقوم کس مد میں ادا کی گئی ہے ۔