اسلام آباد(خبر نگار،مانیٹرنگ ڈیسک)عدالت عظمٰی نے شریف خاندان کی شوگر ملوں کودو ماہ میں جنوبی پنجاب سے اصل جگہ منتقل کرنے کا حکم دیدیا۔چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے حسیب وقاص ،چودھری اور اتفاق شوگر ملز کو وسطی پنجاب سے جنوبی پنجاب منتقل کرنے کو غیر قانونی قراردینے کا ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے فیصلے کے خلاف اپیلیں خارج کردیں۔عدالت نے مختصر فیصلے میں کہا شوگر ملوں کی عمارتوں کو مسمار نہ کیا جائے ، انھیں دوسرے مقاصد کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے ، پابندی کے باجود جنوبی پنجاب میں غیر قانونی طور پر شوگر ملزمنتقل کی گئیں۔ عدالت نے تجویز دی کہ اپیلیں واپس لے کر چھ ہفتے میں صوبائی کابینہ سے ملوں کی منتقلی کی منظوری حاصل کی جائے ،صوبائی حکومت کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج ہو سکتا ہے ، اپیل کنندگان کے وکلا نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا ۔شریف فیملی کے شوگر ملوں کی منتقلی کو غیر قانونی قرار دینے کے فیصلے کے خلاف اپیلوں کی سماعت ہوئی تو اتفاق شوگر مل کے وکیل ملک قیوم نے موقف اپنایا کسی کو جائز کاروبار سے نہیں روکا جاسکتا۔چیف جسٹس نے کہاآپ کے موکل پر جعلسازی کا الزام ہے ،لائسنس پارو پلانٹ کے لئے حاصل کیا گیا تھا ،اگر ہم نے آبزرویشن دی کہ اپیل کنندگان نے غلط بیانی کی تو اس کے کیا اثرات ہوں گے ؟۔ملک قیوم نے کہا مقصد پاور پلانٹ لگانا ہی تھا ،شوگر مل پاورپلانٹ کے لئے ایندھن حاصل کرنے کی غرض سے لگائی گئی۔چیف جسٹس نے کہا لیکن شوگر مل کہیں اور سے منتقل کرکے لگائی گئی،یہ تو فراڈ ہے ،جب جنوبی اضلاع میں شوگر ملوں پر مکمل پابندی تھی تو شوگر ملز کیسے منتقل ہوئیں؟۔ملک قیوم نے کہا مکمل پابندی عائد ہی نہیں کی جاسکتی ،آئین کا آرٹیکل 18ہر شخص کو جائز کاروبار کا حق دیتا ہے ۔چیف جسٹس نے کہا لیکن آپ نے اپنی درخواست میں اس نکتے کو نہیں اٹھایا تھا۔ ملک قیوم نے کہا اس ضمن میں لارجر بینچ کا فیصلہ موجود ہے ،معاملے کا جائزہ لینے کے لئے لارجر بینچ بنانا ہوگا۔چودھری شوگر مل کے وکیل مخدوم علی خان نے بھی مکمل پابندی کے قانون پر اعتراض کیا ۔چیف جسٹس کے استفسار پر انھوں نے بتایااس وقت کے وزیر اعلٰی شہباز شریف مذکورہ شوگر ملوں میں حصہ دار تھے نہ بورڈ اف ڈائریکٹرز کے رکن ۔مخدوم علی خان نے سوال کیا اگر صوبائی حکومت نے منظوری نہیں دی تو کیا ہائی کورٹ کا فیصلہ بحال رہے گا۔ چیف جسٹس نے کہا اس صورت میں ہائی کورٹ کا فیصلہ موثر رہے گا۔مخدوم علی خان نے کہا چیف سیکرٹری کی سربراہی میں کابینہ نے کمیٹی نے ان کی درخواستیں مسترد کی ہیں۔جہانگیر ترین کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا پاور پلانٹ لگانے کا موقف درست نہیں،پابندی والے علاقے میں شوگر مل منتقل کر کے کاٹن انڈسٹری کو تباہ کر دیا گیا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ کے موکل کی شوگر ملیں بھی تو کاٹن ایریا میں ہیں،اعتزاز نے کہا یہ اس وقت لگائی گئی تھیں جب پابندی نہیں تھی ،شوگر مل لگانا یا ایک شوگر مل کو منتقل کرنا ایک ہی چیز ہے ۔