اس وقت دنیامیں لاک ڈائون کی کیفیت رب کاعذاب نہیں تواورکیا۔ ہمیں بطورمسلمان اسے بہرصورت اسے رب کی طرف سے کرہ ارض پر ایک آفت اورعذاب سمجھناچائیے ۔جس کے باعث اہل ایمان کے لئے’’ رجوع الی اللہ‘‘ ناگزیرعمل ہے تاکہ رب الکریم ان کے قلوب سے اس وائرس کی دہشت ،وحشت اورخوف کوزائل کرے ۔اسلام کے پیروکاروں کے لئے پاکیزگی اختیارکرتے ہوئے رجوع الیٰ اللہ اورمتعدی اورمہلک بیماریوں کے لئے مختص دعاماثورہ جواحادیث سے ثابت ہیں نسخہ اکسیرہے۔بطوراہل ایمان ہم اسے عذاب اکبرسے پہلے عذاب ادنیٰ سمجھتے ہیں کیونکہ کرہ ارض پرموجودانسان گناہوں میں لت پت ہے توظاہرکہ ایسی صورت میں عذاب ادنیٰ کے ذریعہ اسے معصیات اورگناہوں سے توبہ کرنے اورواپس پلٹنے کاموقع فراہم کیاجاتاہے ۔اس لئے آپ کے پاس اس کے سوائے اس کا کوئی علاج نہیں کہ اپنے رب کوپکاریںاستغفارکریں تائب ہوجائیںجس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ آپ کے دل پرسکینت اترے گی۔ الابذکراللہ تطمئن القلوب کا نسخہ استعمال اوراختیارکرکے ہی کروناکے مہلک وائرس سے نجات ممکن ہے ۔ رجوع الی اللہ کی اصطلاح عرف میں اللہ تعالی کی طرف توبہ واستغفار کے ذریعے رجوع کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ رجوع الی اللہ کا مطلب یہ ہوگا کہ مسلمان نافرمانیوں اور کفر و شرک والی زندگی سے تائب ہوکر رب تعالی کے احکامات کی طرف لوٹ جائے۔ نیز اپنے رب سے اپنی تقصیرات معاف کرائے اور آئندہ کے لیے رب کی طرف دل سے رجوع کرکے سنن، نوافل ادا کرنے اور مکروہات سے بچنے کا اہتمام کرنے کی بھی کوشش کرے ۔جب مسلمان کو رجوع الیٰ اللہ یعنی توبہ کی توفیق نصیب ہوجائے تو پھر انسان کوشریعت اسلامی سے اکتساب کرتے ہوئے اوراپنی فراست مومنانہ کو استعمال کرتے ہوئے، گمراہی کو ترک کرکے سیدھے راستے کو اختیار کرنا ہے۔ دشمن کی طرف سے جنگ مسلط ہویامملکت میںامن وامان کے ڈنکے بج رہے ہو،گھرسے معاشرے تک بے سکونی کا عفریت دندناتاپھر رہا ہو ہویاسکون وآرام کی نعمت حاصل ہو،معاشرے اورمملکت میںمصیبت اورآفت درآئی ہویا رحمت الٰہی سایہ فگن ہو ،فردسے ملت تک کامیابی کے جھنڈے گاڑے جارہے ہوںیا ہر محاذ پر ناکامی کا سامنا ہو ، مشکلات کی کیفیت ہویاآسانی اورفروانی کاعالم ہو ،عامہ الناس عزت کی زندگی جی رہے ہوںیاذلت مقدربنی ہوئی ہو، تو علمبرداران توحیدپر ہرحال اورہرصورت میں رجوع الیٰ اللہ لازم ہے اورجب بے سکونی، آفت ، مصیبت ، مشکلات اورشدائددرپیش ہوں توپھررجوع الیٰ اللہ کالزوم مذیدبڑھ جاتاہے۔ اس وقت جب یہ سطورحوالہ قلم کررہاہوںتو دنیا بھر میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد دو لاکھ 75 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے اور 11ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔ دنیا میں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ اموات اٹلی میں ہوئی ہیںاٹلی میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور جمعہ20مارچ 2020 ء کو وائرس سے ہونے والی اموات 627ہو گئی ہیں جبکہ ملک میں مجموعی طور پر ہونے والی ہلاکتیں 4032تک پہنچ گئیں ہیں۔اس طرح اٹلی میں اس وائرس سے سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ہلاکتوں کی شرح میں اضافے کے اعتبار سے اٹلی پہلے نمبرپرجبکہ چین اب دوسرے نمبرپرہے۔ ایران اوراسپین بالترتیب تیسرے اورچوتھے نمبرپرہیں۔ جدیدٹیکنالوجی اورمیڈیکل کی دنیامیںانقلاب لانے والے امریکہ اوریورپ میں کروناوائرس نے تباہی مچارکھی ہے ۔امریکہ میں اس کالم کے سپرد قلم کرنے تک کرونا وائرس سے کل اموات 264ہو گئیں، جبکہ یہاں ایک ہی روز میں ساڑھے 5 ہزار سے زائد کورونا کے نئے مریض سامنے آ گئے۔امریکہ میں کرونا کے مجموعی کیسز 19ہزار سے بڑھ گئے جس کے بعد اس وائرس سے دنیا کے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملکوں میں امریکہ چھٹے نمبر پر آ گیا۔۔ڈونلڈ ٹرمپ نے 150ارب ڈالرز کے مجوزہ بل کی منظوری دے دی ہے۔جسکے تحت امریکی عوام کے لیے کرونا وائرس کی تشخیص ان افراد کے لیے مفت ہوگی جنھیں اس کی ضرورت ہو۔بیمارملازمین کو بیماری کی صورت میں بھی تنخواہ کی سہولت فراہم کی جا سکے گی۔کرونا وائرس کے حوالے سے امریکہ میں منظور کیا جانے والا یہ دوسرا ریلیف بل ہے۔ اس سے قبل رواں ماہ ہی 8.3ارب ڈالرز کا پیکیج تشکیل دیا گیا تھا۔وائٹ ہاس کی جانب سے 1.3کھرب کے پیکیج کی تشکیل پر مذاکرات جاری ہیں جس کے ذریعے ممکنہ طور پر 500ارب ڈالرز کی رقم براہ راست امریکی عوام کو فراہم کی جائے گی۔ٹرمپ کا کہنا ہے کہ کمپنیاں لاکھوں ماسک بنائیں گی اور انھیں امریکی عوام تک پہنچائیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا وائٹ ہاس میں خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ ڈیفنس پروڈکشن ایکٹ کا استعمال کریں گے۔ یہ وہ قانون ہے جو کورین جنگ سے متعلق ہے جس کے تحت حکومت امریکی صنعتوں کو حکومت کو مطلوبہ اشیا تیار کرنے کی ہدایت کر سکتی ہے۔جبکہ یورپ کے مرکزی بینک نے یورو زون ممالک کی معیشت کو کرونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی بدحالی سے بچانے کے لیے 820ارب ڈالر مالیت کے ایمرجنسی پیکج کا اعلان کیا ہے۔اس کے ذریعے مرکزی بینک اٹلی اور یونان جیسے ممالک کی سرکاری اور نجی کمپنیوں کے قرضے ادا کرے گا۔مرکزی بینک کی سربراہ کرسٹین لاگارڈ نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ وہ یورو کرنسی کو بچانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔ کرونا وائرس نے یورپ کو بھیانک صورتِ حال سے دو چار کر دیا، جیساکہ عرض کیاجاچکاہے کہ اٹلی میں جمعے کوکرونا وائرس مزید 627 زندگیاںلے گیا۔ فرانس میں مزید 78افراد اس وائرس سے ہلاک ہو گئے جس کے بعد کل ہلاکتوں کی تعداد 450ہو گئی، یہ اعدادوشمار اوریہ تفصیل لکھنے کامقصدیہ بتاناہے کہ یہ وبائی بیماری جس تیزی سے پوری دنیاکواپنی لپیٹ میں لے رہی ہے ، اسلام کے پیرو کاروں کے لئے پاکیزگی اختیارکرتے ہوئے رجوع الیٰ اللہ اورمتعدی اور مہلک بیماریوں کے لئے مختص دعا ماثورہ نسخہ اکسیرہے۔