لاہور(جوادآراعوان)بھارت نے کرتارپور یاترا کی خواہشمند سکھ برادری کیلئے مشکلات پیدا کرنے کیلئے ملٹی سکیورٹی کلیرنس سسٹم بنا دیا ،جس کے تحت مخصوص سیاسی بیک گرائونڈ اور سکھ نیشنلزم میں یقین رکھنے والے یاتریوں کو پاکستان آنے سے روکا جائے گا۔اعلی سرکاری حکام نے روزنامہ 92نیوز کو بتایا کہ اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ بھارت یاتریوں کیلئے مشکلات پیدا کرنے کیلئے نت نئے طریقے اختیار کر رہا ہے ۔ بھارت نے صرف ڈیرہ بابا نانک پر بنائے گئے ٹرمینلز پر تین سیکورٹی کلیرنس پوائنٹس بنائے ہیں جن کے ذریعے اتنی مشکلات پیدا کی جائیں گی کہ کرتارپور آنے کے خواہشمند سکھ یاتری تنگ آ جائیں۔ کرتارپور جانے کی درخواست دینے والے سکھ کمیونٹی کے ممبران میں خالصتان کیلئے حمایت رکھنے والے ،سکھ نیشنلزم میں یقین رکھنے والے اور خالصتان تحریک سے وابستہ رہنے والے سکھ کمیونٹی ممبران کو سکیورٹی کلیرنس نہیں دی جائے گی۔ ڈیرہ بابا نانک پر تین سکیورٹی کلیرنس پوائنٹس پر تمام انڈر کور پوسٹس پر بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی را اور انٹیلی جنس بیورو کے افسران اور اہلکار تعینات ہیں۔ بھارتی ایجنسیاں سکھ یاتریوں کے سامان کا استعمال کرتے ہوئے تخریب کاری کی کوشش کر سکتی ہیں جبکہ کرتارپور سے واپس جانے والے یاتریوں کے سامان میں مشکوک سامان شامل کر کے پاکستان کیخلاف پروپیگنڈا کرنے کی کوشش بھی کر سکتے ہیں۔تواتر سے کرتارپور یاترا کرنے کے خواہشمندوں کو سہولت دینے کیلئے بھارتی ایجنسیاں بعض لوگوں کو ریکروٹ کر کے پاکستان کیخلاف استعمال کرنے کوشش کر سکتی ہیں۔اعلی سرکاری حکام نے بتایا کہ کرتارپور کی سکیورٹی کے ذمہ دار انٹیلی جنس اداروں نے ملٹی پل سکیورٹی سسٹم مرتب کیا ہوا ہے جس کے تحت وہ سکھ کمیونٹی کی فول پروف سکیورٹی کے علاوہ بھارتی ایجنسیز کے ممکنہ آپریشنز پر بھی چیک رکھیں گے ۔انکا کہنا تھا بھارت کی ہر ممکن کوشش ہے کہ پاکستان کو کرتارپور راہداری کے حوالے سے ملنے والی سکھ کمیونٹی کی بھرپور حمایت ختم کرنے کی کوشش کی جائے ۔