لاہور (92 نیوزرپورٹ) پنجاب میں عوام سے سستے علاج معالجے کی سہولت چھن گئی،پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں ٹیسٹ مہنگے اور ادویات نایاب ہونے لگیں ، مریض دوائیاں میڈیکل سٹورز سے مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہو گئے ،مارکیٹ میں بھی ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے شہری بلبلااٹھے ،ذرائع کے مطابق سرکاری ہسپتالوں میں اب ای سی جی کے 100 اور الٹراساونڈ کے لیے 150روپے دینے پڑیں گے ، ایکسرے 60، سٹی سکین2500، ہیپاٹائٹس بی اور سی کی سکریننگ کے 75 روپے ادا کرنا ہوں گے ، جگر کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے لیور فنگشنگ ٹیسٹ کے لیے مریضوں سے 300 روپے وصول کیے جائیں گے ،ادویات کی قیمتوں میں سرکاری سطح پر اضافے کے اعلان سے قبل ہی میڈیسن کمپنیوں نے ادویات بے پناہ مہنگی کر دی تھیں، سرکاری ہسپتالوں میں غریبوں کے لئے ریلیف کا صرف خواب باقی رہ گیا،مہنگے علاج کی وجہ سے شہری بلبلااٹھے ،92نیوزسے گفتگوکرتے ہوئے شہریوں نے کہا کہ حکومت نے غریبوں کو ریلیف دینے کے نام پر ووٹ تو لیے مگر ان سے ریلیف چھین لیا ،ایک شہری نے بتایاکہ 350کاانجکشن آرہالیکن 512کاملا،یہ ہے نیاپاکستان،ہمیں شہباز اورنواز شریف کا دوراچھالگتاتھا،میرے والدکاساہیوال میں ایکسیڈنٹ ہوا،وہاں ادویات اورکھانے پینے کی ہرچیزہسپتال کے اندرسے مفت ملتی تھی،ایک اورشہری نے بتایاکہ جس کے پاس پیسے نہ ہوں وہ ادھرسے کیالے ؟ دودوتین تین ہزارروپے کی ایک وقت کی دوائی لکھ دیتے ہیں،ایک خاتون نے کہاکہ ہمارے پاس تو پیسے بھی نہیں ہم اتنی مہنگی ادویات کہاں سے خریدیں؟