واسطہ یوں رہا سرابوں سے آنکھ کھلی نہیں عذابوں سے میں نے انسان سے رابطہ رکھا میں نے سیکھا نہیں نصابوں سے دنیا ہماری مرضی سے نہیں چلتی۔ اس کے اپنے ہی اصول ہیں کہ اس میں جو بھٹکتا ہے وہی راہ بنا جاتا ہے۔ ورنہ بستی میں کہاں سیدھا چلا جاتا ہے۔ غالب نے بھی کہہ دیا تھا’’ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا‘‘ بہرحال ایسے بھی نہیں روش بدلنے والے بھی موجود رہتے ہیں۔ ان کی کوشش اور سعی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ مگر جب عام اور خاص کی تفریق ہو جائے تو پھر معاشرہ اسی طرح ترتیب پاتا ہے۔ بادشاہت اور ملوکیت کے اپنے ہی خدوخال ہوتے ہیں۔ ویسے تو شیکسپئر نے کہا تھا کہ دنیا ایک سٹیج ہے جہاں لوگ اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ واقعتاً ہم آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ یہ کون لوگ ہیں جو ہزاروں کی تعداد میں نظر آتے ہیں جو نعرے لگاتے دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں کہ فلاں آوے ای آوے اور فلاں ساڈا شیر اے باقی ہیر پھیر اے، وہ لوگ سادہ لوح ہیں جو بادشاہوں کو اپنے ساتھ یعنی عوام کے ساتھ رکھ کر دیکھتے ہیں۔ یہ رائج پیمانوں کے سے ہٹی ہوئی بات ہے۔ یہ مثال معاشرے کی بازگشت کومجسم دیکھنے کی آرزو ہے۔ ویسے بھی جو ٹریجڈی اور المیہ کی تعریف ہے اس میں سفر کرنے والا یعنی مشکلات میں پڑنے والا عام کردارہرگزنہیں ہوتا۔ وہاں تو بادشاہ ہی کسی مشکلات ومسائل سے گزرتا ہے۔ یعنی ٹریجڈی یا المیہ کے یہی لوازمات ہیں کہ بادشاہ سے ہی کوئی بلنڈر سرزد ہوتا ہے کہ وہ مخلص مصاحبین کو نہیں پہنچانتے اور وہ خوشامدیوں کے ہاتھوںمشکلات میں پھنستا ہے اور پھر ٹھوکریں کھاتا ہے اپنی غلطی کی سزا بھگتتا ہے۔ دیکھنے والے بادشاہ سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو بادشاہ کی جگہ رکھ چکے ہوتے ہیں اور تب تک الجھن میں رہتے ہیں جب تک بادشاہ اپنے راستے کی ساری رکاوٹیں دور نہیں کر لیتا یا پھر قسمت اسے ان زنجیروں سے رہائی نہیں دیتی۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نواز شریف کے معاملے کو اس انداز سے دیکھیں عدلیہ کو برا بھلا مت کہیے۔ آپ بھی تو بادشاہ لوگ ہیں جو بادشاہت ختم کرنے کی بات کرتے ہیں۔ بادشاہ تو بہت بڑی بات ہے آپ کسی بیورو کریٹ کسی وزیر یا کسی بھی متمول آدمی کو مجبور کر کے دکھائیں کہ وہ عام ہسپتالوں میں علاج کروائے‘ اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں تعلیم دلوائے یا کہیں پبلک کے ساتھ کوئی اور سانجھ ڈال لے۔ میں موجودہ عوامی ردعمل پر بات کررہا ہوں۔ وگرنہ میں نواز شریف پر خاص طور پر رائے نہیں دے رہا کہ اس میں بہرحال ایک گنجائش تو موجود ہے کہ ان کی بیماری یقینا اتنی پیچیدہ ہے کہ جس کا علاج یہاں نہیں اور جان بچانا ازبس ضروری ہے، اس بات کو عدلیہ نے بھی پیش نظر رکھا۔ عدلیہ بے قصور ہے کہ سزا بھی تو عدلیہ نے دی تھی۔ سجاد میرصاحب نے تو یہ سوال بارہا اٹھایا ہے ۔ میں تو جنرل رویے پر لکھ رہا ہوں۔کہ ہمارا کوئی لیڈر بھی بادشاہت سے دستبردارہونے کے لئے تیار نہیں کہ جہاں شخصیت کی بجائے اداروں کو اہمیت دی جائے چاہے وہ ادارے پارٹیوں کی ضرورت میں ہوں جہاں منشور عمل میں آئے۔ آپ نے بارہا دیکھا کہ پارٹی کسی ایک شخص کے رحم و کرم پر ہوتی ہے اور پھر یہ پارٹی موروثی بن جاتی ہے اور باقی بڑے بڑے انکل بادشاہوں کے بچوں کے بھی حاشیہ بردار ہوتے ہیں۔ اگر آپ کو یاد نہیں تو میں دلا دیتا ہوں کہ عمران خان بھی اس بات کے حق میں نہیں ہے کہ پارٹی ممبران پارٹی کی قیادت سے آزاد کوئی فیصلہ کر سکیں۔ یہ قانون جب پاس ہونے لگا تھا تو عمران خاں کے لوگ بھی غائب ہو گئے تھے اور موروثیت کے خلاف ڈیڑھ ووٹ پڑا تھا۔ ہم خود ہی نہیں چاہتے کہ ہمارے سر سے بادشاہ نہیں بلکہ سیاسی بادشاہتیں اٹھ جائیں پھر ہم کسی کی خوشامد کریں گے۔ کس کے نعرے لگائیں گے ایک عمران خان تھا جس سے یہ توقع ہو چلی تھی کہ وہ اس رائج موروثیت کو ختم کرے گامگر اس کے دوست وارث بن بیٹھے۔ نااہل اس کے حاشیہ نشیں ٹھہرے۔ خان صاحب ہاتھ کھڑے کر گئے۔ افسوس ناک بات تو یہ ہے کہ دونوں طرف کے چمچے معاملات کو زیادہ خراب کرتے ہیں۔ اب دیکھیے اتنے سنجیدہ معاملے پر کہ جب زندگی سے جنگ لڑنے والے ایک شخص کو اگر عدلیہ نے ریلیف دے ہی دیا ہے تو ایک طرف سے فرمایا جا رہا ہے کہ’’ مرد میدان نے ایک اور معرکہ جیت لیا۔ انہوں نے شدید بیماری میں ہی قانونی جنگ جیت لی‘‘ اور دوسری طرف سے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ حکومت اس کیس کو سپریم کورٹ میں لے جائے۔ یہ در فنطنیاں چھوڑنے والے ہمیشہ فتنہ اور فساد پھیلاتے رہے ہیں۔ اصل بات کی طرف کوئی نہیں آتا کہ عوام کے لئے کون مفید ثابت ہوا۔ کس نے ڈیلیور کیا۔ لوگ کس حال میں ہیں۔ مہنگائی کو کون کم کرے گا۔ دوائیاں خالص کیسے اور کہاں سے ملیں گی۔ دوائیاں تو ویسے بھی بیمار کی رسائی میں نہیں ہیں۔ لوگ تو بجلی کے بلوں پر بلبلا رہے ہیں اور اب کے گیس کے بل بھی حد سے بڑھ رہے ہیں۔ سب آپس میں دست و گریبان ہیں اور آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک جیسے ادارے ہمارے سروں پر آن بیٹھے ہیں، غریب آدمی کو نچوڑ رہے ہیں اور خود ہی تسلی دیتے جاتے ہیں کہ معیشت ٹھیک ہو رہی ہے۔ ہمیں نظر تو کچھ بھی نہیں آ رہا کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں برا حال ہے۔ مگر وزیراعلیٰ بزدار بڑے بڑے دعوے فرما رہے ہیں کہ طلباء اور طالبات کے لئے ایک سال میں آٹھ یونیورسٹیاں بنائیں گے۔ معلوم نہیں اس سرکاری تاریخی عمارتوں کو بھی یونیورسٹیوں میں تبدیل ہونا ہے یا نہیں۔ آپ پنجاب بھر میں کوئی جگہ تو بتائیں کہ جہاں کوئی تعمیر کا کام ہو رہا ہے۔ اورنج ٹرین تو آپ سے چل نہیں رہی۔ جو چند بھینسیں آپ کے پاس تھیں وہ بھی بیچ دیں۔ آپ لوگوں کے وعدے دہراتے ہوتے بھی اب شرم آتی ہے۔ اچھا کیا عمران خاں نے کہ دو دن کی چھٹی کر لی اور وہ بنی گالہ میں رہیں گے۔ کاش وہ ان دو دنوں میں ہی غور کر لیں کہ ان کے کریڈٹ پر کیا ہے ۔ ریجیکٹڈ لوگوں کے ساتھ اس نظام کو بدلنا آسان نہیں۔ یہ بات بھی درست کہ آپ تو شیخ رشید کو بدلنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ لگتا ہے کہ شاید منظربدلنے جا رہا ہے کہ شاہ محمود قریشی فرماتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ کہیں نہیں جا رہے شاید اس کے پیچھے ایک بازگشت ہے ۔ چودھری برادران کا مولانا سے رابطہ اور نواز شریف کے لئے ہمدردی لوگ نوٹ کر رہے ہیں۔ فی الحال تو میاں صاحب جا رہے ہیں اور ہم ان کی صحت کے لئے دعا گو ہیں۔