میدان کربلا میں جہاں بہت سی مقدس ہستیوں نے اہم کردار ادا کیا وہاں حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی غیر فاطمی اولاد کا کردار بھی بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم نے مختلف اوقات میں سیدہ کائنات، سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کے علاوہ آٹھ شادیاں کیں۔ان کے علاوہ آپ کی کئیں باندیاں بھی تھیں۔مختلف اقوال کے مطابق ان تمام ازواج اور باندیوں سے آپ کے کل ستائیس بچے تھے ،جن میں سے اٹھارہ بیٹے اور نو بیٹیاں تھیں۔ امام طبری، امام ابن کثیر اور دیگر بہت سے مؤرخین کے مطابق میدان کربلا میں اہل بیت اطہار کے کل سترہ افراد شہادت کے رتبہ پر فائز ہوئے جن میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی غیر فاطمی اولاد میں سے بالاتفاق پانچ فرزند بھی شہادت کے رتبہ پر فائز ہوئے ۔ بعض مؤرخین کے نزدیک یہ تعداد چھ ہے ۔جن کے اسمائے گرامی یہ ہیں: 1- حضرت عباس بن علی 2- حضرت جعفر بن علی 3- حضرت عبداللہ بن علی 4- حضرت عثمان بن علی۔ان چاروں کی والدہ محترمہ حضرت ام البنین بنت حرام کلابیہ تھیں۔ حضرت ام البنین کا تعلق عرب کے مشہور قبیلے بنی کلاب سے تھا۔آپ بہت بڑی عابدہ،زاہدہ اور متقیہ ہونے کے ساتھ ساتھ عالمہ، فاضلہ اور محدثہ بھی تھیں۔علوم ظاہری و باطنی پر کامل دسترس رکھتی تھیں۔حضرت علی کے فیض اور ام البنین کی تربیت نے ان چاروں میں جذبہ جہاد اور شوق شہادت پیدا کیا جس کا عملی مظاہرہ میدان کربلا میں دیکھنے کو ملتا ہے ۔ 5حضرت ابو بکر بن علی،جن کی والدہ محترمہ کا نام حضرت لیلیٰ بنت مسعود تھا۔ 6-حضرت عمر بن علی۔ مؤرخین کے نزدیک آپ کے میدان کربلا میں شریک اور شہید ہونے کے متعلق اختلاف پایا جاتا ہے ۔ بعض مؤرخین کے نزدیک حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے عمر نامی دو بیٹے تھے ۔ ایک کا نام عمر الاکبر ہے ،جن کی والدہ کا نام صہباء تغلبیہ تھا اور دوسرے کا نام عمر الاصغر ہے اور یہی عمر الاصغر میدان کربلا میں شہید ہوئے ،ان کی والدہ کا نام ام حبیب تھا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے ان تمام بہادر بیٹوں نے میدان کربلا میں نہ صرف شجاعت کا مظاہرہ کیا بلکہ آخری دم تک اپنے سپہ سالار اور بھائی سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ وفاداری کا بھی بے مثال عملی مظاہرہ کیا۔مختلف کتب تاریخ میں آتا ہے کہ ’’جب شمر،عبیداللہ بن زیاد کا خط لے کر کربلا کی طرف روانہ ہو رہا تھا تو عبداللہ بن ابی محل جو کہ ام البنین کا بھتیجا تھا، اس نے ابن زیاد سے کہا کہ ہمارے خاندان کی ایک لڑکی یعنی ’’ام البنین‘‘ کے بیٹے سیدنا امام حسین علیہ السلام کے ساتھ ہیں۔آپ ان کے لئے ایک امان نامہ لکھ دیجئے ۔ابن زیاد نے حضرت ام البنین کے چاروں فرزندوں کے لئے امان نامہ لکھ دیا،جسے عبداللہ بن ابی محل نے اپنے آزاد کردہ غلام کزمان کے ہاتھ روانہ کیا۔وہ امان نامہ لے کر فرزندان علی کے پاس پہنچا اور کہا کہ آپ کے ماموں زاد بھائی نے آپ سب بھائیوں کے لیے یہ امان نامہ لکھوا کر بھیجا ہے ۔ان چاروں غیور اور وفادار فرزندان علی نے کہا کہ ہمارے بھائی کو ہماری طرف سے سلام کہہ دینا اور یہ بھی کہنا کہ ہم کو ابن زیاد کی امان کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔اللہ تعالیٰ کی امان ہی ہمارے لیے کافی ہے ۔اس کے بعد ابن زیاد کا وہ خط عمرو بن سعد کو پہنچایا گیا تو اس نے بھی جماعت حسینی کی طرف منہ کر کے بلند آواز میں کہا کہ ام البنین کے بیٹے کہاں ہیں؟ تو فرزندان علی نے کہا اب آپ لوگ آخر ہم سے چاہتے کیا ہیں؟ عمرو بن سعد نے جواباً کہا کہ آپ چاروں بھایئوں کے لیے امان ہے ۔فرزندان علی نے فرمایا کہ’’ اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو تم پر اور تمہاری امان پر، کہ ہمارے لیے تو امان ہے اور فرزند رسول یعنی امام حسین علیہ السلام کے لئے امان نہیں ہے ‘‘۔غرض ان چاروں نے اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کے ساتھ وفاداری کا مظاہرہ کیا۔ اپنی جانیں تو قربان کردیں لیکن امام حسین علیہ السلام کے ساتھ بے وفائی نہ کی۔(تاریخ طبری ج:5 ص:415) حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کے غیر فاطمی فرزندوں نے میدان کربلا میں بڑی جواں مردی سے یزیدی لشکر کا مقابلہ کیا۔ سب سے پہلے حضرت ابو بکر بن علی نے میدان کربلا میں دشمن کو للکارا اور جذبہ جہاد اور قوت ایمانی سے دشمن کی صفوں میں لرزہ طاری کردیا یہاں تک کہ بہت سے یزیدیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور لڑتے لڑتے شہید ہوگئے ۔عاشورہ کے روز سب سے پہلے آپ ہی شہید ہوئے ۔ اسی طرح حضرت ام البنین کے بیٹوں نے بھی میدان کربلا میں حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپ کے دیگر رفقاء کا بھرپور ساتھ دیا۔ حضرت عبداللہ بن علی مثل شیر یزداں جب میدان کربلا میں تشریف لے گئے تو وہاں جاتے ہی آپ نے زوردار حملہ کیا اور ساتھ ہی یہ رجزیہ کلام کہا’’ کہ میں ایک عظیم الشان بہادر اور صاحب جودو کرم کا بیٹا ہوں۔یہی وجہ ہے کہ میرے افعال و اعمال میں اچھائی نظر آتی ہے ‘‘۔آپ نے ایسا قوی حملہ کیا جس سے دشمن کے اوسان خطا ہو گئے ۔جب آپ کو انفرادی طور پر قابو نہ کیا جا سکا تو دشمن نے مل کر ایک جتھے کی صورت میں آپ پر حملہ کرکے آپ کو زخمی کردیا۔ آپ زخمی حالت میں بھی کافی دیر تک یزیدیوں کا مقابلہ کرتے رہے بالآخر شہید ہوگئے ۔ اسی طرح آپ کے دوسرے بھائی جعفر بن علی، جن کا نام حضرت علی نے اپنے بھائی جعفر بن ابی طالب کے نام پر جعفر رکھا وہ بھی اپنے بھائی عبداللہ بن علی کی طرح میدان کربلا میں مردانہ وار یزیدیوں کا مقابلہ کرتے رہے بالآخر وہ بھی ہانی بن ثبیت کے ہاتھوں عاشورہ کے روز شہید ہوکر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہوگئے ۔ان دو بھائیوں کے بعد تیسرے بھائی حضرت عثمان بن علی میدان میں آئے ۔ آپ بڑی دلیری سے لڑتے رہے بالآخر خولی کے تیر سے زخمی ہوئے اور زخموں میں چور چور تھے لیکن زبان پر رجزیہ کلام تھا جس کا مفہوم یہ کہ’’میں صاحب مفاخر عثمان ہوں کیوں کہ میرے شیخ علی کرم اللہ وجہہ الکریم ہیں جو رسول کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں۔ میرے بھائی حسین ابن حیدر ہیں جو کہ تمام بھائیوں سے افضل بھائی ہیں اور وہ حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے بعد تمام چھوٹوں اور بڑوں کے سردار ہیں۔ غرض زخمی حالت میں یہ رجزیہ اشعار کہتے کہتے آپ نے اپنی جان یہ پیغام دیتے ہوئے جان آفرین کے سپرد کردی کہ: جان دی، دی ہوئی اس کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا حضرت عباس بن علی کے ذکر کے بغیر فرزندان علی کی بہادری کی داستان ادھوری ہے ۔شہنشاہ وفا،علمدار اور غازی کے القاب سے ملقب اس عظیم ہستی نے بھی اسلام سے وفاداری کا علم اٹھائے ہوئے شہادت کا عظیم رتبہ حاصل کیا۔اہل بیت اطہار اور دیگر رفقائے اہل بیت نے اپنی جانوں کو نچھاور کر کے ہمیں یہ سبق دیا کہ اسلام کی حفاظت قربانیوں سے ہی ممکن ہے ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اہل بیت کی مودت عطا فرمائے اور ان کے نقشے قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین!